حدیث نمبر: 2057
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك: أنَّ أُسيد بن حُضَير أتى النبي ﷺ، فذكر الحديث بنحوه، وقال فيه: قال رسول الله ﷺ: "اقرأْ أُسيدُ، اقرأْ أُسيدُ، فإنَّ ذلك مَلَكٌ يَستمِعُ القرآن" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم، من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أُسيد:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! پڑھتے رہتے، اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ وہ فرشتے تھے جو قرآن سن رہے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2057
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 2057] [ترقيم الشركة 2041]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات.
حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه كما في "المطالب العالية" (3548)، وابن بَشكُوال في "غوامض الأسماء المبهمة" 2/ 782 من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے "المطالب العالیہ" میں اور ابن بشکوال نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله، وما بعده.
ہدایت: اس سے پہلے اور بعد والی روایات کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2057 سے ماخوذ ہے۔