المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ باب: قرآن کے فضائل — قرآن کی تلاوت کے وقت فرشتوں کا نازل ہونا۔
حدیث نمبر: 2058
أخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عفّان بن مسلم وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُنَاني، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أُسَيد بن حُضَير، أنه قال: بينا أنا أقرأُ ليلةً سورةَ البقرة، فلما انتهيتُ إلى آخرها سمعتُ وَجْبةً مِن خَلْفي، فظننتُ أنَّ فرسي تَطَلَّق، فقال: اقرأْ أبا عَتِيك، فالتفتُّ، فإذا أمثالُ المصابيح مدلّاةٌ بين السماء والأرض، فقال: يا رسول الله، والله ما استطعتُ أن أمضِيَ، قال: فقال: "تلكَ الملائكةُ نزلتْ لِقراءة القرآنِ، أمَا إنك لو مَضَيتَ لرأيتَ العَجائب" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک رات میں سورہ بقرہ پڑھ رہا تھا، جب میں اس کے آخر میں پہنچا تو اپنے پیچھے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی، میں نے گمان کیا کہ میرا گھوڑا کھل گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو عتیک! پڑھتے رہو“، میں نے مڑ کر دیکھا تو چراغوں کی مانند کوئی چیز آسمان اور زمین کے درمیان لٹکی ہوئی تھی، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم مجھ میں (آگے پڑھنے کی) ہمت نہ رہی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو قرآن کی قرات کے لیے نازل ہوئے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو (صبح لوگ) عجائبات دیکھتے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عبد الرحمن بن أبي ليلى لم يَلحق أُسيد بن حضير فيسمعَ منه، كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" في ترجمة أُسيد 1/ 341.
وأخرجه ابن حبان (779) من طريق هدبة بن خالد، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، لیکن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی اسید بن حضیر سے ملاقات ثابت نہیں، جیسا کہ امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" میں صراحت کی ہے۔
حوالہ: ابن حبان نے بھی اسے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وتابع ثابتًا البُنانيَّ عليه قتادة بن دعامة، أخرجه من طريقه إسحاق بن راهويه كما في "المطالب العالية" (3546)، ومحمد بن نصر المروَزي في "قيام الليل - مختصره" ص 141، والفريابي في "فضائل القرآن" (28)، والطبراني في "الكبير" (567)، وفي "الأوسط" (8117)، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلِّصيات" (285)، وأبو نعيم في "حلية الأولياء" 9/ 237.
متابعات و شواہد: ثابت بنانی کی تائید قتادہ بن دعامہ نے کی ہے، ان کے طریق سے اسے اسحاق بن راہویہ، مروزی، فاریابی، طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔
وقوله: تَطَلَّق، يجوز أن يكون بضم القاف، فعلًا مضارعًا حذفت إحدى تائيه تخفيفًا، ويجوز أن يكون بفتح القاف، فعلًا ماضيًا، والمعنى أنَّ الفرس مَضَتْ تعدو لا تَلْوي على شيء، والفَرس يذكَّر ويؤنَّث. ويجوز أن يكون من: طَلَق يَطلُق، من باب قعد: إذا انحلَّ وثاق الفرس.
نوٹ / توضیح: لفظ "تطلّق" (فعل ماضی یا مضارع) کا مطلب ہے کہ گھوڑا کسی چیز کی طرف مڑے بغیر تیزی سے دوڑنے لگا۔ یہ لفظ گھوڑے کے بندھن کھل جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (779) من طريق هدبة بن خالد، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں، لیکن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی اسید بن حضیر سے ملاقات ثابت نہیں، جیسا کہ امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" میں صراحت کی ہے۔
حوالہ: ابن حبان نے بھی اسے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وتابع ثابتًا البُنانيَّ عليه قتادة بن دعامة، أخرجه من طريقه إسحاق بن راهويه كما في "المطالب العالية" (3546)، ومحمد بن نصر المروَزي في "قيام الليل - مختصره" ص 141، والفريابي في "فضائل القرآن" (28)، والطبراني في "الكبير" (567)، وفي "الأوسط" (8117)، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلِّصيات" (285)، وأبو نعيم في "حلية الأولياء" 9/ 237.
متابعات و شواہد: ثابت بنانی کی تائید قتادہ بن دعامہ نے کی ہے، ان کے طریق سے اسے اسحاق بن راہویہ، مروزی، فاریابی، طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔
وقوله: تَطَلَّق، يجوز أن يكون بضم القاف، فعلًا مضارعًا حذفت إحدى تائيه تخفيفًا، ويجوز أن يكون بفتح القاف، فعلًا ماضيًا، والمعنى أنَّ الفرس مَضَتْ تعدو لا تَلْوي على شيء، والفَرس يذكَّر ويؤنَّث. ويجوز أن يكون من: طَلَق يَطلُق، من باب قعد: إذا انحلَّ وثاق الفرس.
نوٹ / توضیح: لفظ "تطلّق" (فعل ماضی یا مضارع) کا مطلب ہے کہ گھوڑا کسی چیز کی طرف مڑے بغیر تیزی سے دوڑنے لگا۔ یہ لفظ گھوڑے کے بندھن کھل جانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2058 سے ماخوذ ہے۔