کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سب سے افضل دعا انسان کی اپنی ذات کے لیے دعا ہے۔
أخبرنا الإمام أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا هشام بن علي. وحدثنا أحمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي؛ قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا المبارك بن حسّان، عن عطاء، عن عائشة قالت: سُئل رسولُ الله ﷺ: أيُّ الدعاء أفضلُ؟ قال: "دُعاءُ المرءِ لِنفسِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے نفس (ذات) کے لیے دعا کرنا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 2015
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه لين من أجل المبارك بن حسان
تخریج حدیث «إسناده فيه لين من أجل المبارك بن حسان، فقد اختُلف فيه، وثّقه ابن معين ويعقوب بن سفيان، وذكره ابن حبان وابنُ شاهين في "الثقات"، غير أنَّ ابن حبان قال: يخطئ ويخالف، وقال عبد الحق الإشبيلي في "أحكامه الكبرى" 3/ 496: ثقة مشهور، وخالفهم آخرون، فقال ابن أبي خيثمة وأبو داود: ...» [ترقيم الرساله 2015] [ترقيم الشركة 1999]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا أبو وهب محمد بن مُزاحِم، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن مِسعَر، عن علي بن بَذِيمة، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، وأُراه عوفَ بنَ مالك، فقال: يا رسول الله، إنَّ بني فلانٍ أَغارُوا عليَّ، فذهَبوا بابني وإبِلي، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ آلَ محمدٍ كذا وكذا أهلَ بيتٍ - وأظنُّه قال: تسعةَ أبياتٍ - ما فيهم صاعٌ من طعامٍ ولا مُدٌّ من طعامٍ، فاسألِ اللهَ ﷿"، قال: فرجعَ إلى امرأته، فقالت له: ما ردَّ عليك رسولُ الله ﷺ؟ فأخبَرَها، قال: فلم يَلبَثِ الرجلُ أن رُدَّ عليه إبِلُه وابنُه أوفَرَ ما كانوا، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبرَه، فقام على المِنبر، فحَمِدَ اللهَ وأثنى عليه، وأمرَهم بمسألةِ الله ﷿ والرغبةِ إليه، وقرأ عليهم: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: 2، 3] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میرا خیال ہے وہ عوف بن مالک تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں قبیلے والوں نے مجھ پر حملہ کر کے میرا بیٹا اور اونٹ چھین لیے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آلِ محمد (ﷺ) کے (نو) گھروں میں ایک صاع یا ایک مد غلہ تک موجود نہیں، پس تم اللہ عزوجل سے مانگو۔“ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس واپس آیا تو اس نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا جواب دیا؟ انہوں نے اسے سارا حال بتایا، راوی کہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس کے اونٹ اور بیٹا پہلے سے بھی بہتر حالت میں واپس مل گئے، وہ شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی، تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور لوگوں کو اللہ عزوجل سے مانگنے اور اسی کی طرف رغبت کرنے کا حکم دیا اور ان پر یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ ”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔“ [سورة الطلاق: 2، 3]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 2016
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2016] [ترقيم الشركة 2000]