حدیث نمبر: 2014
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدثنا إبراهيم بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا عُقبة بن مُكْرَم العَمَّي، حدثنا شَريك بن عبد المجيد (1)، أخو أبي بكر الحَنَفي، حدثنا الهيثم (2) بن جَمّاز البَكّاء، عن ثابت البُناني، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طالبٍ مَرِضَ فثَقُل فعادَه النبيُّ ﷺ، فقال: يا ابنَ أخي، ادْعُ ربَّك الذي تعبُدُ (3) أن يُعافيَني، فقال النبيُّ ﷺ: "اللهمَّ اشفِ عَمِّي"، فقامَ كأنَّما نُشِطَ من عِقَال، فقال أبو طالب: إِنَّ ربَّك الذي تعبُدُ لَيُطِيعُك، قال: "وأنتَ يا عَمِّ، لئِنْ أَطعتَ اللهَ ليُطِيعُك (4) " (5).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطالب بیمار ہوئے اور ان کی حالت بگڑ گئی تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، ابوطالب نے عرض کیا: اے میرے بھتیجے! اپنے اس رب سے دعا کریں جس کی آپ عبادت کرتے ہیں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، تو نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَمِّي» ”اے اللہ! میرے چچا کو شفا عطا فرما۔“ پس وہ (ایسے چست ہو کر) کھڑے ہوئے گویا کہ وہ رسیوں سے کھول دیے گئے ہوں، ابوطالب نے کہا: آپ کا وہ رب جس کی آپ عبادت کرتے ہیں وہ یقیناً آپ کی بات بھی مانتا ہے (یعنی دعا سنتا ہے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اے چچا! اگر آپ اللہ کی اطاعت کریں تو وہ یقیناً آپ کی بھی اطاعت فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 2014
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل الهيثم بن جَمّاز البكاء، فقد تركوه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، والراوي عنه شريك بن عبد المجيد الحنفي غير معتمد كما قال الدارقطني في "سؤالات البرقاني له" (319).» [ترقيم الرساله 2014] [ترقيم الشركة 1998]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الحميد، بحاء مهملة بعدها ميم.
توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) ہو کر "عبد الحمید" (ح اور م کے ساتھ) لکھا گیا تھا، جسے درست کر لیا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: القاسم وفي "التلخيص" على الصواب.
توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں نام "القاسم" ہو گیا تھا، جبکہ "التلخیص" میں یہ درست درج ہے۔
(3) في النسخ في الموضعين: بعثك، والمثبت من نسخة بهامش (ز) في كلا الموضعين، وهو الموافق لما في مصادر تخريج الحديث.
توضیح: اصل نسخوں میں دونوں جگہ "بعثك" لکھا تھا، مگر ہم نے نسخہ (ز) کے حاشیے اور دیگر مصادرِ تخریج کے مطابق اسے درست کر دیا ہے۔
(4) كذلك وقعت مرفوعةً في نسخنا الخطية مع كونها جوابًا للشرط، لأنَّ الجواب إذا كان مضارعًا وكان الشرط ماضيًا ففي ذلك الجواب وجهان الرفع والجزم، والجزم أكثر. انظر "المُفصَّل" للزمخشري ص 321، و"شواهد التوضيح" لابن مالك ص 176، و"حاشية الشَّنَواني على شرح مقدمة الإعراب لابن هشام" ص 71 - 72.
توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ "مرفوع" (پیش کے ساتھ) آیا ہے کیونکہ یہ جملہ شرط کا جواب ہے۔ لغتِ عرب کے مطابق اگر شرط ماضی ہو اور جواب مضارع، تو جواب پر رفع اور جزم دونوں جائز ہیں، اگرچہ جزم زیادہ فصیح ہے۔
(5) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الهيثم بن جَمّاز البكاء، فقد تركوه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، والراوي عنه شريك بن عبد المجيد الحنفي غير معتمد كما قال الدارقطني في "سؤالات البرقاني له" (319).
درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے کیونکہ اس میں ہیثم بن جماز البکاء ہے، جسے محدثین نے ترک کر دیا ہے۔ نیز راوی شریک بن عبد المجید بھی معتبر نہیں ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3973)، وابن عدي في "الكامل" 7/ 102، وأبو طاهر الذهبي في "المخلِّصيات" (606)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 184، والخطيب في "تاريخ بغداد"

9/ 353، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 66/ 324 و 325 من طرق عن عُقبة بن مُكرَم، بهذا الإسناد.

حوالہ / مصدر: اسے طبرانی، ابن عدی، بیہقی، خطیب بغدادی اور ابن عساکر نے عقبہ بن مکرم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو محمد عبد الله بن زيدان البجلي في "مسنده" (44)، وأبو بكر القطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" (1152)، وابن عساكر 66/ 325 من طريق محمد بن يونس القرشي الكُديمي، عن شريك بن عبد المجيد الحَنَفي، به. والكديمي ضعيف جدًّا.
درجۂ حدیث: اسے عبد اللہ بن زیدان اور قطیعی نے بھی روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں محمد بن یونس الکدیمی موجود ہے جو کہ "شدید ضعیف" راوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2014 سے ماخوذ ہے۔