کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آپ ﷺ کی یہ دعا ہوتی تھی: اے اللہ! مجھے اسلام کے ساتھ ہر حال میں محفوظ رکھ۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العَلّاف بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هِلال، عن أبي الصَّهْباء، عن عبد الرحمن (1) بن أبي ليلى أخبره عن ابن مَسعود، عن رسول الله ﷺ أنه كان يَدعُو: "اللهمّ احفَظْني بالإسلام قائمًا، واحفَظْني بالإسلام قاعدًا، واحفَظْني بالإسلام راقِدًا، ولا تُشمِتْ بي عدوًّا حاسدًا، اللهمّ إني أسألُك من كلِّ خيرٍ خَزائنُه بيدِك، وأعوذُ بك من كلِّ شرِّ خَزائنُه بيدِك" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ احْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِي بِالْإِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِي عَدُوًّا حَاسِدًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ» ”اے اللہ! اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما کھڑے ہونے کی حالت میں، بیٹھنے کی حالت میں اور سونے کی حالت میں، اور میرے بارے میں کسی حاسد دشمن کو خوش ہونے کا موقع نہ دے، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں، اور ہر اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا أحمد بن نَجْدة القُرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا خَلَف بن خَلِيفة، حدثنا حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، قال: كان من دُعاء رسولِ الله ﷺ: "اللهمّ إنا نسألُك مُوجِباتَ رحمتِك، وعَزائمَ مَغفرتك، والسلامةَ من كل إثمٍ، والغنيمةَ من كل بِرٍّ، والفَوزَ بالجنة، والنَّجاةَ بعونِك مِن النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجَاةَ بِعَوْنِكَ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے تیری رحمت کا سبب بننے والی چیزوں، تیری بخشش کو لازم کرنے والے کاموں، ہر گناہ سے سلامتی، ہر نیکی کی وافر مقدار، جنت کی کامیابی اور تیری مدد سے آگ سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔