کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تسبیح کی فضیلت۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي صالح، عن أبي سعيد وأبي هريرة، قالا: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله اصطَفَى من الكلامِ: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إله إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، فإذا قال العبدُ: سبحانَ الله، كَتَبَ اللهُ له عشرين حسنةً، أو حَطَّ عنه عشرين سيئةً، وإذا قال: اللهُ أكبرُ، فمثلُ ذلك، وإذا قال: لا إلهَ إلَّا الله، فمثلُ ذلك، وإذا قال العبدُ: الحمدُ لله ربِّ العالمين، من قِبَل نفسِه، كُتبتْ له ثلاثون حسنةً، وحُطَّ عنه ثلاثون سيئةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے چار کلمات کو منتخب فرمایا ہے: «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ»، جب بندہ «سُبْحَانَ اللهِ» کہتا ہے تو اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا بیس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، جب «اللهُ أَكْبَرُ» کہتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جب «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہتا ہے تب بھی یہی اجر ہے، اور جب بندہ اپنی طرف سے (خلوصِ دل کے ساتھ) ﴿الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ”تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں“ کہتا ہے تو اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1907
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكنه اختُلف في رفعه ووقفه على أبي سِنان» [ترقيم الرساله 1907] [ترقيم الشركة 1892]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي سِنَان، عن عثمان بن أبي سَوْدة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مرَّ به وهو يَغرِسُ غَرْسًا، فقال: "ما تَصنعُ يا أبا هُريرة؟ " قال: أغرِسُ غرسًا، فقال رسول الله ﷺ: "ألا أدلُّك على غَرْسٍ خيرٍ لك منه؟ " قلت: ما هو؟ قال: "سبحانَ اللهِ، والحمدُ للهِ، ولا إلهَ إلَّا اللهُ، واللهُ أكبرُ، يُغرَسُ لك بكلِّ واحدةٍ شجرةٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ عن جابر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ پودا لگا رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابوہریرہ! کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: پودا لگا رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر پودے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ عرض کیا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ»، ان میں سے ہر ایک کلمے کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جائے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من أجل أبي سِنان» [ترقيم الرساله 1908] [ترقيم الشركة 1893]
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن الحجّاج الصَّوّاف، عن أبي الزُّبير، عن جابر، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن قال: سبحانَ الله العَظيم، غُرِست له نخلةٌ في الجنة" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے «سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ» کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا گیا۔“
یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1909
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وقد سلف برقم (1868).» [ترقيم الرساله 1909] [ترقيم الشركة 1894]