کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو مسلمان اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا پڑھے، پھر اسی بیماری میں وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر دیا جاتا ہے۔
حدَّثَناه الزُّبير بن عبد الواحد الحافظ، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة العَسْقلاني، حدثنا أحمد بن عمرو بن بَكْر السَّكْسَكيّ، حدّثني أبي، عن محمد بن زيد (2)، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن مالكٍ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "هل أدلُّكم على اسمِ الله الأعظم الذي إذا دُعِيَ به أجاب، وإذا سُئِلَ به أَعطَى؟ الدعوةُ التي دعا بها يُونُسُ حيثُ ناداه في الظُّلُمات الثلاث: لا إله إلَّا أنتَ، سبحانَكَ إِنِّي كنتُ من الظالمين"، فقال رجل: يا رسولَ الله، هل كانت ليونُسَ خاصةً أم للمؤمنين عامة؟ فقال رسولُ الله ﷺ: "ألا تسمعُ قولَ الله ﷿: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأنبياء: 88] " وقال رسول الله ﷺ: "أيُّما مسلمٍ دعا بها في مَرَضِه أربعينَ مرةً، فمات في مَرَضِه ذلك، أُعطِيَ أجرَ شهيد، وإن بَرَأَ بَرَأَ وقد غُفِرَ له جميعُ ذنوبه" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن مالکی (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں اللہ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں کہ جب اس کے ذریعے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب کچھ مانگا جائے تو عطا کرتا ہے؟ یہ وہی دعا ہے جو یونس (علیہ السلام) نے تین تاریکیوں میں پکاری تھی: «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی زیادتی کرنے والوں میں سے ہوں““، اس پر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ دعا خاص طور پر سیدنا یونس علیہ السلام کے لیے تھی یا تمام مومنوں کے لیے عام ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”پس ہم نے ان کی پکار سن لی اور انہیں غم سے نجات دے دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں“۔“ [سورة الأنبياء: 88] اور رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: ”جو بھی مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ یہ کلمات پڑھے اور وہ اسی بیماری میں وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر دیا جائے گا، اور اگر وہ صحت یاب ہو جائے تو اس حال میں تندرست ہوگا کہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہوں گے۔“
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثني عمّار بن نَصْر، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد الله بن العلاء بن زَبْرٍ، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبي أُمامةَ، عن النبي ﷺ قال: "إِنَّ اسمَ الله الأعظم لَفِي ثلاثِ سورٍ من القرآن: في سورةِ البقرة وآلِ عمرانَ، وطه". فالتمستُها فوجدتُ في سورة البقرة آيةَ الكرسي: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255]، وفي سورة آل عمران: ﴿الم (1) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [آل عمران: 1 - 2]، وفي سورة طه: ﴿وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ﴾ [طه: 111] (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم قرآن مجید کی تین سورتوں میں ہے: سورہ بقرہ، سورہ آلِ عمران اور سورہ طہ میں۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے انہیں تلاش کیا تو سورہ بقرہ میں آیت الکرسی میں یہ الفاظ پائے: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255]، سورہ آلِ عمران کے آغاز میں: ﴿الم ٭ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة آل عمران: 1 - 2]، اور سورہ طہ میں یہ آیت: ﴿وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ﴾ [سورة طه: 111]۔
حدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن مَهْدي العطّار بالفُسْطاط، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا ابن زَبْر - وهو عبد الله بن العلاء - قال: سمعت القاسم أبا عبد الرحمن يقول: إنَّ اسمَ الله الأعظم لفي سورٍ من القرآن ثلاثٍ: البقرة وآل عمران، وطه. فقال له رجل يقال له: عيسى بن موسى - وأنا أسمع -: يا أبا زَبْر سمعتُ غَيْلانَ بن أنسٍ يقول: سمعتُ القاسم أبا عبد الرحمن يقول (2): سمعتُ أبا أمامة يحدِّث عن النبي ﷺ: أنَّ اسمَ الله الأعظم لفي سورٍ من القرآن ثلاثٍ. ثم ذكره بنحوه (1). حديث عمرو بن أبي سلمة هذا لا يعلِّل حديث الوليد بن مسلم، فإنَّ الوليد أحفظُ وأتقنُ وأعرفُ بحديث بلده، على أنَّ الشيخين لم يحتجّا بالقاسم أبي عبد الرحمن.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم قرآن کی تین سورتوں بقرہ، آلِ عمران اور طہ میں ہے۔“
عمرو بن ابی سلمہ کی یہ روایت ولید بن مسلم کی حدیث میں کوئی علت پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ولید اپنے علاقے کی احادیث کے زیادہ بڑے حافظ اور پختہ راوی ہیں، علاوہ ازیں شیخین نے قاسم ابوعبدالرحمن سے استدلال نہیں کیا۔
عمرو بن ابی سلمہ کی یہ روایت ولید بن مسلم کی حدیث میں کوئی علت پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ولید اپنے علاقے کی احادیث کے زیادہ بڑے حافظ اور پختہ راوی ہیں، علاوہ ازیں شیخین نے قاسم ابوعبدالرحمن سے استدلال نہیں کیا۔