المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
أَيُّمَا مُسْلِمٍ دَعَا بِدَعْوَةِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي مَرَضِهِ أَرْبَعِينَ مَرَّةً فَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ أُعْطِيَ أَجْرَ شَهِيدٍ ، وَإِنْ بَرَأَ بَرَأَ ، وَقَدْ غُفِرَ لَهُ جَمِيعُ ذُنُوبِهِ باب: جو مسلمان اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ سیدنا یونس علیہ السلام کی دعا پڑھے، پھر اسی بیماری میں وفات پا جائے تو اسے شہید کا اجر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1887
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثني عمّار بن نَصْر، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد الله بن العلاء بن زَبْرٍ، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبي أُمامةَ، عن النبي ﷺ قال: "إِنَّ اسمَ الله الأعظم لَفِي ثلاثِ سورٍ من القرآن: في سورةِ البقرة وآلِ عمرانَ، وطه". فالتمستُها فوجدتُ في سورة البقرة آيةَ الكرسي: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255]، وفي سورة آل عمران: ﴿الم (1) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [آل عمران: 1 - 2]، وفي سورة طه: ﴿وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ﴾ [طه: 111] (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم قرآن مجید کی تین سورتوں میں ہے: سورہ بقرہ، سورہ آلِ عمران اور سورہ طہ میں۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے انہیں تلاش کیا تو سورہ بقرہ میں آیت الکرسی میں یہ الفاظ پائے: ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255]، سورہ آلِ عمران کے آغاز میں: ﴿الم ٭ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة آل عمران: 1 - 2]، اور سورہ طہ میں یہ آیت: ﴿وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ﴾ [سورة طه: 111]۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، عمار بن نصر - وإن كان فيه مقال - متابع، وقد سلف من طريق هشام بن عمار عن الوليد بن مسلم برقم (1882).
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، عمار بن نصر اگرچہ کلام سے خالی نہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، عمار بن نصر اگرچہ کلام سے خالی نہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1887 سے ماخوذ ہے۔