کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین عمرے کیے، اور اس کے سوا کوئی حج نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا أبو بكر عُبيد الله (1) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ سَعَى ثلاثةَ أطوافٍ ومشى أربعةً حين قَدِمَ بالحج والعمرة حين كان اعتَمَر. وقال ابن عمر: اعتَمَرَ رسول الله ﷺ قبل حجَّتِه مرتين أو ثلاثًا ولم يحجَّ غيرها، إحدى عُمرتَيهِ في رمضان (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ کے لیے مکہ تشریف لانے پر (طواف میں) تین چکر تیز چلے اور چار چکر پیدل چلے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین مرتبہ عمرہ کیا اور آپ ﷺ نے (زندگی میں) صرف ایک ہی حج کیا، آپ ﷺ کے عمروں میں سے ایک رمضان میں تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1801
درجۂ حدیث محدثین: الشطر الأول منه صحيح
تخریج حدیث «الشطر الأول منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد توبع على الشطر الأول، أما الثاني فلم يتابع عليه. نافع والد عبد الله: هو المدني مولى عبد الله بن عمر، وأخرجه بمعنى الشطر الأول أحمد 8/ (4618) و (4844) و 9/ (5444) ...» [ترقيم الرساله 1801] [ترقيم الشركة 1787]
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشةَ قالت: خرَجْنا مع رسولِ الله ﷺ على أنواعٍ ثلاثٍ، فمنَّا مَن أهلَّ بحَجّةٍ وعُمرة، ومنّا من أهلَّ بحجٍّ مفرَد، ومنّا من أهلَّ بعُمرة، فمَن كان أهلَّ بحجٍّ وعمرةٍ فلم يَحِلَّ من شيءٍ مما حَرُمَ عليه حتى قضى مناسكَ الحج، ومن أهلَّ بحجٍّ مفرَد لم يَحِلَّ من شيءٍ حتى يقضيَ مناسكَ الحجّ، ومَن أهلَّ بعُمرةٍ فطاف بالبيت وبالصّفا والمَرْوةِ حلَّ ثم استَقبَل الحجَّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تین طرح کے احرام باندھ کر نکلے؛ ہم میں سے کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا (قران)، کچھ نے صرف حج کا (افراد) اور کچھ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا، پس جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ حج کے مناسک پورے کرنے تک کسی بھی ممنوعہ چیز سے حلال نہیں ہوا، اور جس نے صرف حج کا احرام باندھا وہ بھی مناسکِ حج مکمل ہونے تک حلال نہیں ہوا، البتہ جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد احرام کھول دیا اور پھر (بعد میں) حج کا احرام باندھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1802
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي. عامر بن سعيد: هو الضُّبعي.» [ترقيم الرساله 1802] [ترقيم الشركة 1788]