المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجِّهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا باب: رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین عمرے کیے، اور اس کے سوا کوئی حج نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1801
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا أبو بكر عُبيد الله (1) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ سَعَى ثلاثةَ أطوافٍ ومشى أربعةً حين قَدِمَ بالحج والعمرة حين كان اعتَمَر. وقال ابن عمر: اعتَمَرَ رسول الله ﷺ قبل حجَّتِه مرتين أو ثلاثًا ولم يحجَّ غيرها، إحدى عُمرتَيهِ في رمضان (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ کے لیے مکہ تشریف لانے پر (طواف میں) تین چکر تیز چلے اور چار چکر پیدل چلے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین مرتبہ عمرہ کیا اور آپ ﷺ نے (زندگی میں) صرف ایک ہی حج کیا، آپ ﷺ کے عمروں میں سے ایک رمضان میں تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقعت تسميته في أصولنا الخطية، وفي "إتحاف المهرة" (10706)، وهو خطأ صوابه عبد الكبير بن عبد المجيد، فهو الذي كنيته أبو بكر ويروي عن عبد الله بن نافع، أما عُبيد الله بن عبد المجيد فهو أخو عبد الكبير ويكنى أبا علي، ويغلب على ظننا أنه وهم أو سبق قلم من المصنف نفسه، فقد سماه هكذا أبا بكر عبيد الله بن عبد المجيد في موضعين آخرين من "المستدرك" برقم (7473) و (8437).
علّت / فنی نکتہ: خطی نسخوں اور 'اتحاف المہرہ' میں نام 'عبید اللہ بن عبدالمجید' لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "عبدالکبیر بن عبدالمجید" ہے، کیونکہ عبید اللہ کی کنیت ابوعلی تھی جبکہ عبدالکبیر کی ابوبکر۔ بظاہر یہ مصنف کا سبقِ قلم ہے۔
(2) الشطر الأول منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد توبع على الشطر الأول، أما الثاني فلم يتابع عليه. نافع والد عبد الله: هو المدني مولى عبد الله بن عمر.
وأخرجه بمعنى الشطر الأول أحمد 8/ (4618) و (4844) و 9/ (5444) و 10/ (5737) و (5760)، والبخاري (1617) و (1644)، ومسلم (1261) (230) و (1262) (233) و (234)، وأبو داود (1891)، وابن ماجه (2950)، والنسائي (3924) من طريق عبيد الله بن عمر العمري، وأحمد 9/ (4983) و (5238) و 10/ (5943) و (6047) و (6433) و (6463) من طريق عبد الله بن عمر العمري، وأحمد 10/ (6081)، والبخاري (1604) من طريق فليح بن سليمان، والبخاري (1616)، ومسلم (1261) (231)، وأبو داود (1893)، والنسائي (3921) من طريق موسى بن عقبة، والنسائي (3923) من طريق كثير بن فرقد، خمستهم عن نافع، به.
درجۂ حدیث: اس کا پہلا حصہ صحیح ہے مگر پوری سند عبداللہ بن نافع کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ پہلا حصہ (مواقیت کے بیان میں) بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں کئی ثقہ راویوں (عبید اللہ بن عمر، نافع، موسیٰ بن عقبہ) سے ثابت ہے۔
وأخرجه - يعني بنحو الشطر الأول - أحمد 10/ (6247)، والبخاري (1603)، ومسلم (1261) (232)، والنسائي (3925) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1603) اور مسلم نے سالم بن عبداللہ بن عمر عن ابیہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
علّت / فنی نکتہ: خطی نسخوں اور 'اتحاف المہرہ' میں نام 'عبید اللہ بن عبدالمجید' لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام "عبدالکبیر بن عبدالمجید" ہے، کیونکہ عبید اللہ کی کنیت ابوعلی تھی جبکہ عبدالکبیر کی ابوبکر۔ بظاہر یہ مصنف کا سبقِ قلم ہے۔
(2) الشطر الأول منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد توبع على الشطر الأول، أما الثاني فلم يتابع عليه. نافع والد عبد الله: هو المدني مولى عبد الله بن عمر.
وأخرجه بمعنى الشطر الأول أحمد 8/ (4618) و (4844) و 9/ (5444) و 10/ (5737) و (5760)، والبخاري (1617) و (1644)، ومسلم (1261) (230) و (1262) (233) و (234)، وأبو داود (1891)، وابن ماجه (2950)، والنسائي (3924) من طريق عبيد الله بن عمر العمري، وأحمد 9/ (4983) و (5238) و 10/ (5943) و (6047) و (6433) و (6463) من طريق عبد الله بن عمر العمري، وأحمد 10/ (6081)، والبخاري (1604) من طريق فليح بن سليمان، والبخاري (1616)، ومسلم (1261) (231)، وأبو داود (1893)، والنسائي (3921) من طريق موسى بن عقبة، والنسائي (3923) من طريق كثير بن فرقد، خمستهم عن نافع، به.
درجۂ حدیث: اس کا پہلا حصہ صحیح ہے مگر پوری سند عبداللہ بن نافع کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ پہلا حصہ (مواقیت کے بیان میں) بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں کئی ثقہ راویوں (عبید اللہ بن عمر، نافع، موسیٰ بن عقبہ) سے ثابت ہے۔
وأخرجه - يعني بنحو الشطر الأول - أحمد 10/ (6247)، والبخاري (1603)، ومسلم (1261) (232)، والنسائي (3925) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1603) اور مسلم نے سالم بن عبداللہ بن عمر عن ابیہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1801 سے ماخوذ ہے۔