کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب تم میں سے کوئی اپنا حج مکمل کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد روانہ ہو۔
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر الحافظ، حدثنا أبو مروان محمد بن عثمان العثماني، حدثنا أبو ضَمْرةَ اللَّيثي، عن هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "إذا قَضَى أحدُكم حَجَّه فليُعَجِّلِ الرِّحلةَ إلى أهلِه، فإنَّه أعظمُ لأجْرِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنا حج مکمل کر لے تو اسے اپنے گھر والوں کی طرف واپسی میں جلدی کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اس کے اجر کے لیے زیادہ بڑی بات ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،، رجاله ثقات، ومحمد بن عثمان العثماني وإن كان فيه كلام من حيث النكارة في حديثه فيما يرويه عن أبيه، فقد بيَّن الذهبي في "الميزان" أنَّ نكارتها من قبل أبيه، فخرج من عهدتها، وقد وثقه أبو حاتم وصالح جزرة، وقال البخاري: كان صدوقًا وهو خير من أبيه وأبوه عنده ...» [ترقيم الرساله 1772] [ترقيم الشركة 1759]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال؛ قالا: حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: جاء جبريلُ إلى رسول الله ﷺ، فَذَهَبَ به ليُرِيَه المناسكَ، فانفَرَجَ له ثَبِيرٌ، فدخل منًى، فأراه الجِمَار، ثم أراه جَمْعًا، ثم أراه عرفاتٍ، فنَبَعَ الشيطانُ للنبيِّ ﷺ عند الجَمْرة، فرَمَى بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في الجَمْرة الثانية، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في جَمْرة العَقَبة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخَ فذهب (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو مناسکِ حج دکھانے کے لیے لے گئے، تو ثبیر (پہاڑ) ان کے لیے پھٹ گیا اور وہ منیٰ میں داخل ہوئے، پھر انہوں نے آپ کو جمرات دکھائے، پھر مزدلفہ دکھایا، پھر عرفات دکھایا؛ پس جمرہ کے پاس شیطان نبی کریم ﷺ کے سامنے اچانک ظاہر ہوا تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرہ کے پاس ابھرا تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ دھنس گیا اور چلا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1773
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرد عطاء بن السائب به
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرد عطاء بن السائب به، وكان قد اختلط بأخرة، ولم يَذكُر أحدٌ أنَّ أبا حمزة - وهو محمد بن ميمون السُّكري - قد روى عنه قبل الاختلاط، بل إنَّ ابن القطان الفاسي قد ذكر أبا حمزة السكري هذا فيمن اختلط، كما في ترجمته من "تهذيب التهذيب"، ثم إنَّ ...» [ترقيم الرساله 1773] [ترقيم الشركة 1760]
حدثنا أبو سعيد محمد بن جعفر الخَصِيب الصُّوفي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا العلاء بن عمرو الحنفي ومحمد بن العلاء الهَمْداني، قالا: حدثنا حُمَيد [بن] الخُوَار، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاءٍ، قال: لا أَرمي حتى تَزِيغَ الشمسُ، إنَّ جابر بن عبد الله قال: كان رسولُ الله ﷺ يَرمي يومَ النَّحْر قبلَ الزَّوال، فأما بعدَ ذلك فعندَ الزَّوالِ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں (ایامِ تشریق میں) کنکریاں نہیں مارتا یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو زوال سے پہلے کنکریاں مارتے تھے لیکن اس کے بعد کے دنوں میں زوال کے بعد مارتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1774
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حميد بن الخوار، وقد تفرد في هذا الإسناد بذكر عطاء - وهو ابن أبي رباح - فخالف بذلك الثقات من أصحاب ابن جريج الذين قالوا: عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر، لذلك قال ابن خزيمة (2969): هذا حديث غريب إن كان ابن خوار حفظ عطاءً في هذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1774] [ترقيم الشركة 1761]