حدیث نمبر: 1609
فحدَّثَني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثنا ابن وَهْب، قال: سمعتُ الليث يحدِّث عن ابن شهابٍ: أنه كان إذا ذُكِر له أنه نُهِيَ (2) عن صيام يوم السبت، قال:
هذا حديثٌ حمصي (3). وله مُعارِضٌ بإسنادٍ صحيح:
حافظ طلحہ بابر

امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ان کے سامنے ہفتے کے دن کے روزے کی ممانعت کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حمصیوں کی روایت ہے (یعنی اس کی صحت پر کلام ہے)۔“ اور اس کے مقابلے میں ایک اور صحیح سند سے بھی روایت موجود ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1609
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1609] [ترقيم الشركة 1598]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) لفظة "نهي" وقع مكانها بياض في (ز) و (ص)، وأثبتناها من (ع) و"إتحاف المهرة" 16/ (996)، وسقطت من (ب).
اہم نکتہ: لفظ "نہي" (منع کیا) کی جگہ نسخہ (ز) اور (ص) میں سفیدی (خالی جگہ) تھی، ہم نے اسے نسخہ (ع) اور اتحاف المهرة 16/ (996) سے ثابت کیا ہے، جبکہ یہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(3) هذا الأثر أخرجه أبو داود (2423) عن عبد الملك بن شعيب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس اثر کو ابو داود (2423) نے عبد الملک بن شعیب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1609 سے ماخوذ ہے۔