کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن أفطَرَ في رمضانَ ناسيًا، فلا قَضاءَ عليه ولا كفَّارةَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں بھول کر کچھ کھا پی لیا اور روزہ توڑ دیا، تو اس پر نہ اس کی قضا ہے اور نہ ہی کوئی کفارہ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مخصوص سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1585
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 1585] [ترقيم الشركة 1574]
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق بن موسى الخَطْمي (1)، حدثنا أبي، حدثنا أنس بن عِيَاض عن الحارث بن عبد الرحمن، عن عمِّه، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "ليسَ الصِّيامُ من الأكل والشرب، إنما الصيامُ من اللَّغْو والرَّفَث، فإن سابَّكَ أحدٌ أو جَهِلَ عليك فقل: إنِّي صائم، إنِّي صائم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ محض کھانے اور پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقی روزہ تو لغویات اور بیہودہ باتوں سے بچنے کا نام ہے، پس اگر تمہیں کوئی گالی دے یا تمہارے ساتھ جہالت و نادانی سے پیش آئے تو تم (اس کے جواب میں) کہہ دو: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1586
درجۂ حدیث محدثین: صحيح دون قوله: "ليس الصيام من الأكل والشرب"
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: "ليس الصيام من الأكل والشرب"، فقد تفرد به الحارث بن عبد الرحمن - وهو ابن أبي ذباب - عن عمه، وهذا الأخير قد سماه ابن حبان: عبد الله بن المغيرة بن أبي ذباب، وذكره في "الثقات"، ولا يعرف حاله.» [ترقيم الرساله 1586] [ترقيم الشركة 1575]
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا قُتيبة بن سعيد البَلْخي، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "رُبَّ صائمٍ حَظُّه من صيامِه الجُوعُ، ورُبَّ قائمٍ حَظُّه من قيامِه السَّهَر" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے ہونے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے (کی تھکن) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1587
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد، عمرو بن أبي عمرو» [ترقيم الرساله 1587] [ترقيم الشركة 1576]