حدیث نمبر: 1584
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سُلَيم بن عامر أبي يحيى الكَلَاعي، قال: حدثني أبو أُمامةَ الباهلي قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "بَيْنا أنا نائمٌ إذ أتاني رجلان، فأخذا بضَبْعيَّ فأتَيا بي جبلًا وَعْرًا، فقالا لي: اصعَدْ، فقلت: إني لا أُطيقه، فقالا: إنا سنُسهِّلُه لك، فصَعَّدْتُ، حتى إذا كنتُ في سواء الجبل إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، فقلتُ: ما هذه الأصوات؟ قالوا: هذا عُواءُ أهل النار، ثم انطُلِقَ بي، فإذا أنا بقومٍ مُعلَّقين بعَرَاقيبهم، مُشقَّقةٍ أشداقُهم، تسيلُ أشداقُهم دمًا، قال: قلتُ: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يُفطِرون قبل تَحِلَّة صومِهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں سو رہا تھا کہ اچانک میرے پاس دو فرشتے آئے اور انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ کر ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے اور مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیں، میں نے عرض کیا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے یہ راستہ آسان کر دیں گے، چنانچہ میں اوپر چڑھ گیا، جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اچانک مجھے نہایت ہولناک چیخیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ جہنمیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ ایسے لوگ دیکھے جو اپنی کونچوں کے بل الٹے لٹکے ہوئے تھے، ان کی بانچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان سے خون بہ رہا تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ بدبخت ہیں جو وقتِ افطار سے پہلے ہی (بغیر کسی شرعی عذر کے) روزہ توڑ دیتے تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الصوم / حدیث: 1584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،بشر بن بكر: هو التِّنِّيسي.» [ترقيم الرساله 1584] [ترقيم الشركة 1573]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. بشر بن بكر: هو التِّنِّيسي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
راوی پر جرح: بشر بن بکر سے مراد التِّنِّیسی ہیں۔
وأخرجه النسائي (3273) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3273) نے ولید بن مسلم عن عبدالرحمن بن یزید بن جابر کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2883)، وذكرنا غريب ألفاظه هناك.
توضیح: یہ روایت آگے (2883) پر آئے گی، اور اس کے مشکل الفاظ کی وضاحت ہم نے وہیں کر دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1584 سے ماخوذ ہے۔