کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم اور نہ کوئی غلام۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسحاق، عن عمرو بن الحارث، عن جُوَيريَةَ بنت الحارث قالت: والله ما تَرَكَ رسول الله ﷺ عندَ موته دينارًا ولا درهمًا ولا عبدًا ولا أَمةً، إلا بغلتَه وسلاحَه، وأرضًا تَرَكَها صدقةً (2).
هذا حديث صحيح وقد خرَّجه البخاري.
هذا حديث صحيح وقد خرَّجه البخاري.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ کوئی غلام اور نہ ہی کوئی لونڈی، سوائے اپنے سفید خچر، اپنے اسلحہ اور اس زمین کے جسے آپ ﷺ نے صدقہ کر دیا تھا۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي، حدثنا عبد الله بن جعفر الرَّقِّي، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسةَ، عن أبي إسحاق، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، قال: لما حُصِرَ عثمانُ بن عفّان أشرف عليهم من فوق دارِه، ثم قال: أُذكِّرُكم الله، هل تعلمون أنَّ رُوْمَةَ لم يكن يشربُ منها أحدٌ إلَّا بثمنٍ، فابتعتُها من مالي فجعلتُها للغنيِّ والفقير وابن السَّبيل؟ قالوا: نعم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (اپنے گھر میں) محصور کیے گئے تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے لوگوں کی طرف جھانک کر فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ بئرِ رومہ کا پانی کوئی شخص قیمت ادا کیے بغیر نہیں پی سکتا تھا، تو میں نے اسے اپنے مال سے خریدا اور اسے غنی، فقیر اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں (ہم جانتے ہیں)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔