أخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا جعفر بن أحمد بن سِنَان، حدثنا أحمد بن سِنَان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن عثمان، عن موسى بن طلحة قال: عندنا كتابُ معاذ بن جَبَل عن النبيِّ ﷺ: أنه إنَّما أخَذَ الصدقة من الحِنْطة والشَّعير والزَّبيب والتَّمر (3).
هذا حديث قد احتُجَّ بجميع رواته، ولم يُخرجاه، وموسى بن طلحة تابعيٌّ كبير لم يُنكَر له أنه يُدرِك أيام معاذ (1).
هذا حديث قد احتُجَّ بجميع رواته، ولم يُخرجاه، وموسى بن طلحة تابعيٌّ كبير لم يُنكَر له أنه يُدرِك أيام معاذ (1).
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وہ تحریر موجود ہے جو نبی کریم ﷺ کی طرف سے تھی: جس میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ زکوٰۃ صرف گندم، جو، کشمش اور کھجور سے ہی وصول فرماتے تھے۔
اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا گیا ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور موسیٰ بن طلحہ ایک بڑے تابعی ہیں جن کا سیدنا معاذ کا زمانہ پانا غیر معروف نہیں ہے۔
اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا گیا ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور موسیٰ بن طلحہ ایک بڑے تابعی ہیں جن کا سیدنا معاذ کا زمانہ پانا غیر معروف نہیں ہے۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا عُمَير بن مِرْداس، حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، بن عبيد الله، عن عمِّه موسى بن طلحة، عن معاذ بن جبل، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "فيما سَقَتِ السماءُ والبَعْلُ والسَّيلُ العُشْرُ، وفيما سُقِي بالنَّضْح نصفُ العُشْر". وإنما يكون ذلك في التَّمر والحِنْطة والحُبوب، وأما القِثَّاء والبِطِّيخُ والرُّمَّان والقَضْبُ، فقد عفا عنه رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو زمین آسمان کے پانی، قدرتی نمی یا سیلابی پانی سے سیراب ہو اس میں 'عشر' (دسواں حصہ) واجب ہے، اور جو کنوؤں یا مشقت کے ذریعے سیراب ہو اس میں 'نصف عشر' (بیسواں حصہ) ہے"۔ اور یہ زکوٰۃ صرف کھجور، گندم اور اناج میں ہوگی، رہا معاملہ ککڑی، تربوز، انار اور سبزیوں (قضب) کا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے درگزر فرمایا ہے (یعنی ان پر زکوٰۃ نہیں)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور صحیح سند کے ساتھ اس کی شاہد حدیث بھی موجود ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور صحیح سند کے ساتھ اس کی شاہد حدیث بھی موجود ہے:
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن أبي نصر المَرْوَزِيُّ، قالا: حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن أبي بُرْدةَ، عن أبي موسى ومعاذِ بنِ جبل، حين بَعَثَهما رسولُ الله ﷺ إلى اليمن يعلِّمانِ الناسَ أمرَ دِينِهم: "لا تأخذوا الصَّدقةَ إلّا من هذه الأربعة: الشَّعير، والحِنْطة، والزَّبيب، والتَّمر" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو یمن کی طرف لوگوں کو دین سکھانے کے لیے بھیجا تو فرمایا: "تم زکوٰۃ صرف ان چار چیزوں سے لینا: جو، گندم، کشمش اور کھجور۔"
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا محمد بن مُسلم، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ليس على الرَّجُل المسلمِ زكاةً في كَرْمِه، ولا في زَرْعِه، إذا كان أقلَّ من خمسةِ أوسُقٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے انگور کے باغ یا کھیتی پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ وہ پانچ وسق (تقریباً 653 کلوگرام) سے کم ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔