حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرٌو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا عِمْران بن داوَرَ (1) القَطَّان، حدثنا مَعمَر بن راشد، عن الزُّهري، عن أنس بن مالكٍ، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ ارتَدَّتِ العرب، فقال عمر بن الخطّاب: يا أبا بكر، أتريدُ أن تُقاتِلَ العرب؟ قال: فقال أبو بكر: إنَّما قال رسولُ الله ﷺ: "أُمِرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشْهَدُوا أن لا إله إلّا الله، وأنِّي رسول الله، ويُقِيمُوا الصلاة، ويُؤتُوا الزكاة"، والله لو مَنَعوني عَنَاقًا مما كانوا يُعطُونَ رسولَ الله ﷺ، لأُقاتِلنَّهم عليه. قال عمر: فلمَّا رأيتُ رأيَ أبي بكرٍ قد شُرِحَ عليه، عَلِمتُ أنه الحقّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور عرب کے لوگ (زکوٰۃ کے معاملے میں) مرتد ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے ابوبکر! کیا آپ عربوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تو یہی فرمایا تھا کہ: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں“، پس اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی دینے سے انکار کیا جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کی خاطر ان سے ضرور جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اس رائے کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا:
أخبرَناه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهَيثَم بن خالد، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا أبو العَنْبَس سعيد بن كَثِير، حدثني أَبي، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "أُمرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشهَدوا أن لا إله إلّا الله، ويُقيمُوا الصَّلاة، ويُؤتُوا الزَّكاة، ثم حُرِّمت عليَّ دماؤُهم وأموالُهم وحِسابُهم (1) على الله ﷿" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر مجھ سے ان کے خون اور ان کے اموال محفوظ ہو جائیں گے اور ان کا (باطنی) حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہوگا۔“