کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس کے ایک، دو یا تین بچے فوت ہو جائیں۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر. وحدثنا بُكَير بن محمد بن الحدَّاد الصُّوفي بمكة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر، عن عبد الله بن بُرَيدةَ، عن أبيه قال: كان رسولُ الله ﷺ يتعهَّد الأنصارَ ويَعُودُهم، ويَسأَل عنهم، فبَلَغَه عن امرأةٍ من الأنصار مات ابنُها وليس لها غيرُه، وأنها جَزِعَتْ عليه جَزَعًا شديدًا، فأَتى النبيُّ ﷺ فَأَمَرها بتقوى الله وبالصَّبر، فقالت: يا رسولَ الله، إنِّي امرأةٌ رَقُوبٌ لا أَلِدُ ولم يكن لي غيرُه، فقال رسول الله ﷺ: "الرَّقُوبُ الذي يبقى ولدُها"، ثم قال: "ما مِن امرِئٍ أو امرأةٍ مسلمةٍ يموتُ لها ثلاثةُ أولادٍ، إلّا أدخَلَهُم اللهُ بهم الجنةَ"، فقال عمر: يا رسولَ الله، بأبي وأمي، واثنان؟ قال: "واثنانِ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذِكر الرَّقُوب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کی خبر گیری فرماتے، ان کی عیادت کرتے اور ان کے حالات دریافت کرتے تھے، آپ ﷺ کو ایک انصاری خاتون کے بارے میں معلوم ہوا جس کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا تھا اور وہ اس پر شدید غمزدہ تھی، چنانچہ نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اسے تقویٰ اور صبر کی تلقین فرمائی، اس خاتون نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت «رَقُوب» (جس کی اولاد زندہ نہ رہے) ہوں، میں اب مزید اولاد کی امید بھی نہیں رکھتی اور اس کے سوا میرا کوئی بیٹا نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقی «رَقُوب» تو وہ ہے جس کی اولاد (آخرت میں اس کے لیے) باقی رہ جائے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بھی مسلمان مرد یا عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں کے سبب اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اور اگر دو فوت ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو (کے بدلے) بھی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے لفظ «رَقُوب» کے ذکر کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بشير بن مهاجر.» [ترقيم الرساله 1432] [ترقيم الشركة 1420]
حدثنا أبو الصَّقْر أحمد بن الفَضْل الكاتب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، سمعت معاوية بن قُرَّة. وحدثنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، يحدِّث عن أبيه: أنَّ رجلًا كان يأتي النبيَّ ﷺ ومعه ابنٌ له، فقال له النبيُّ ﷺ: "أتحبُّه؟ " فقال: أَحبَّك الله كما أُحبُّه، ففَقَدَه النبيُّ ﷺ، فقال: "ما فَعَلَ فلان؟ " قالوا: مات ابنُه، فقال النبيُّ ﷺ: "أما يَسرُّك أن لا تأتيَ بابًا من أبواب الجنة إلّا وَجَدْتَه يَنتظِرُك؟ " فقال رجل: أَلَه خاصّةً أو لِكُلِّنا؟ قال: "بل لِكُلِّكُم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو ساتھ لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ آپ سے ویسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر کچھ عرصہ بعد وہ بچہ نبی کریم ﷺ کو نظر نہ آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”فلاں کا کیا ہوا؟“ لوگوں نے بتایا: اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر جاؤ، اسے وہاں اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ؟“ ایک شخص نے عرض کیا: کیا یہ خوشخبری خاص طور پر اسی کے لیے ہے یا ہم سب کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم سب کے لیے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایک تابعی کا صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (صحت کے منافی نہیں)۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1433
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وهو في "مسند أحمد" 33/ (20366)، وقرن بمحمد بن جعفر يزيدَ بن هارون.» [ترقيم الرساله 1433] [ترقيم الشركة 1421]