کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جنازے کے آگے پیدل چلنے والا اور پیچھے سوار ہونے والا۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثَّقَفي، حدثنا زياد بن جُبَير بن حَيَّة، عن أبيه جُبَير بن حَيَّة، عن المغيرة بن شُعبة قال: قال رسول الله ﷺ: "الماشي أمامَ الجِنازة، والراكبُ خَلْفَها، والطفلُ يُصلَّى عليه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیدل چلنے والا جنازے کے آگے چلے اور سوار اس کے پیچھے چلے، اور فوت شدہ بچے کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ثَوْبان: أنَّ النبي ﷺ شَيَّع جنازةً، فأُتي بدابّةٍ، فأبى أن يركبَها، فلمَّا انصرف أُتي بدابّةٍ فركبها، فقيل له، فقال: "إنَّ الملائكةَ كانت تمشي، فلم أكن لأركَبَ وهم يمشون، فلمَا ذهبوا - أو قال: عَرَجوا - رَكِبتُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے، آپ ﷺ کے پاس سواری لائی گئی مگر آپ ﷺ نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، پھر جب جنازے سے فارغ ہو کر واپس لوٹنے لگے تو سواری لائی گئی اور آپ ﷺ اس پر سوار ہو گئے، آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، تو میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ پیدل چلیں اور میں سوار ہو جاؤں، پھر جب وہ چلے گئے - یا فرمایا: اوپر چڑھ گئے - تو میں سوار ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔
أخبرَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي وأبو نَصْر محمد بن أحمد الخَفَّاف، قالا: حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بَكْر بن أبي مريم، عن راشد بن سَعْد، عن ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجَ رسول الله ﷺ في جِنازةٍ فرأى ناسًا رُكْبانًا، فقال: "ألا تَسْتَحيُون؟! إنَّ ملائكةَ الله على أقدامِهِم وأنتم على ظُهور الدوابِّ! " (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو!“