حدیث نمبر: 1331
أخبرَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي وأبو نَصْر محمد بن أحمد الخَفَّاف، قالا: حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بَكْر بن أبي مريم، عن راشد بن سَعْد، عن ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجَ رسول الله ﷺ في جِنازةٍ فرأى ناسًا رُكْبانًا، فقال: "ألا تَسْتَحيُون؟! إنَّ ملائكةَ الله على أقدامِهِم وأنتم على ظُهور الدوابِّ! " (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو!“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1331
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وقد رواه هنا مرفوعًا، وخالفه ثور بن يزيد» [ترقيم الرساله 1331] [ترقيم الشركة 1319]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وقد رواه هنا مرفوعًا، وخالفه ثور بن يزيد - وهو ثقة فرواه عن راشد بن سعد عن ثوبان موقوفًا، ورجَّح البخاري الموقوف.
درجۂ حدیث: (1) ابوبکر بن ابی مریم کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ امام بخاری کے نزدیک اس کا "موقوف" (ثوبان کا قول) ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (1012) عن علي بن حجر، عن عيسى بن يونس، بهذا الإسناد. وقال بإثره: حديث ثوبان قد روي عنه موقوفًا، قال محمد - يعني البخاري: والموقوف أصح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1012) نے روایت کیا اور بخاری کا قول نقل کیا کہ موقوف ہی زیادہ اصح ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1480) من طريق بقية بن الوليد، عن أبي بكر بن أبي مريم، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1480) نے بقیہ بن ولید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 3/ 281، ومن طريقه ابن المنذر في "الأوسط" (3029) عن وكيع، عن ثور بن يزيد، عن راشد بن سعد، عن ثوبان، موقوفًا. وهذا إسناد صحيح.
درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (281/3) نے ثور بن یزید کی سند سے اسے "موقوفاً" صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1331 سے ماخوذ ہے۔