کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عید کی نماز سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا أبو عمّار، حدثنا وكيع، عن أبان بن عبد الله البَجَلي، عن أبي بكر بن حفص بن عمر بن سعد بن أبي وقاص، عن ابن عمر: أنه خَرَجَ في يوم عيد إلى المصلَّى فلم يصلِّ قبلَها ولا بعدَها، وذكر أنَّ النبيَّ ﷺ فعله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، لكنّهما قد اتفقا على حديث سعيد بن جُبَير عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ لم يصلِّ قبلَها ولا بعدَها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1095 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، لكنّهما قد اتفقا على حديث سعيد بن جُبَير عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ لم يصلِّ قبلَها ولا بعدَها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1095 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن عیدگاہ کی طرف نکلے تو انہوں نے نماز سے پہلے اور اس کے بعد کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی، اور انہوں نے ذکر کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سعید بن جبیر عن ابن عباس کی حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے نہ پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سعید بن جبیر عن ابن عباس کی حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے نہ پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهانيُّ الزاهد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن عَبْدَة، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلى قبل الخُطبة في يومِ عيد (1). هذا لفظ حديث أحمد بن عَبْدةَ، وفي حديث سليمان تقصير.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1096 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1096 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔
یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جبکہ سلیمان کی روایت میں اختصار ہے، یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح سے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جبکہ سلیمان کی روایت میں اختصار ہے، یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس طرح سے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي؛ قالا: حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، حدثني وَهْب بن كَيْسان، قال: شهدتُ ابن الزُّبير بمكةَ وهو أميرٌ، فوافق يومُ فطرٍ أو أضحى يومَ الجمعة، فأخَّر الخروجَ حتى ارتَفعَ النهار، فخرج وصَعِد المنبر فخطب فأطال، ثم صلَّى ركعتين ولم يصلِّ الجمعة، فعاتبه عليه ناسٌ مِن بني أُمية بن عبد شمس، فبلغ ذلك ابنَ عباس، فقال: أصاب ابنُ الزبير السنةَ، فبلغ ابنَ الزبير، فقال: رأيتُ عمر بن الخطاب إذا اجتمع عيدانِ صَنَعَ مثلَ هذا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1097 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1097 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ امارت میں مکہ میں موجود تھا کہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ جمعہ کے دن آ گئی، تو انہوں نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ گیا، پھر وہ باہر آئے اور منبر پر چڑھے تو خطبہ دیا اور اسے طویل کیا، پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور جمعہ کی نماز نہیں پڑھی، بنو امیہ کے کچھ لوگوں نے ان پر اس بات کی وجہ سے اعتراض کیا، جب یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ابن زبیر نے سنت کے عین مطابق کیا ہے، جب یہ بات ابن زبیر کو پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ جب دو عیدیں جمع ہو جاتیں تو وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهَّاب، حدثنا خالد بن مَخْلَد، حدثنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ أخذَ يومَ عيدٍ في طريقٍ، ثم رَجَعَ في طريقٍ آخر (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن (عیدگاہ جانے کے لیے) ایک راستہ اختیار فرماتے اور واپسی پر دوسرے راستے سے تشریف لاتے تھے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عُبيد الله بن أبي داود المُنادي، حدثنا يونس بن محمد المؤدِّب، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن أبي هريرة قال: كان النبيُّ ﷺ كان إذا خَرَجَ إلى العيدين رَجعَ في غير الطريق الذي خَرجَ فيه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وشاهدُه الحديث الذي قبله، وهو حديث عبد الله بن عمر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1099 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وشاهدُه الحديث الذي قبله، وهو حديث عبد الله بن عمر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1099 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب عیدین کے لیے نکلتے تو واپسی پر اس راستے کے علاوہ دوسرے راستے سے تشریف لاتے جس سے آپ ﷺ (عیدگاہ) گئے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد اس سے پہلی والی حدیث ہے جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد اس سے پہلی والی حدیث ہے جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله الصفَّار، حدثنا أبو إسماعيل الترمذيُّ، حدثنا ابن أبي مريم، حدثنا إبراهيم بن سُوَيد، حدثني أُنَيس بن أبي يحيى، حدثني إسحاق بن سالم من بني نَوفَل بن عَدِيٍّ، حدثني بكر بن مُبشِّر، قال: كنت أغدُو مع أصحاب رسول الله ﷺ إلى المصلَّى يومَ الفطر، فنسلُكُ بطنَ بُطْحانَ حتى نأتي إلى المصلَّى، فنصلي مع النبي ﷺ، ثم نَرجِعُ إلى بيوتنا (1).
حافظ طلحہ بابر
بکر بن مبشر بیان کرتے ہیں کہ میں عید الفطر کے دن رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ عیدگاہ جایا کرتا تھا، ہم بطنِ بطحان کی گھاٹی سے گزرتے یہاں تک کہ عیدگاہ پہنچ جاتے، پھر ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔