کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفَضْل بن عبد الجبّار. وأخبرنا القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال؛ قالا: حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يخطُب فأقبل الحسنُ والحسينُ عليهما قَميصانِ أحمرانِ يَعثُران ويقومان، فنزل فأخذهما فوضعهما بين يديه، ثم قال: "صَدَقَ الله ورسولُه: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [التغابن: 15] رأيتُ ولَديّ هذين فلم أصبِرْ حتى نزلتُ فأخذتُهما"، ثم أخَذَ في خُطبته (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو أصلٌ في قطع الخُطبة والنُّزولِ من المِنبَر عند الحاجة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1059 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے، وہ دونوں سرخ قمیصیں پہنے ہوئے تھے اور (بچپن کی وجہ سے) لڑکھڑاتے اور گرتے پڑتے چل رہے تھے، تو آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے، ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض ایک آزمائش ہیں“ [سورة التغابن: 15] میں نے اپنے ان دونوں بچوں کو دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ میں نے نیچے اتر کر انہیں اٹھا لیا“، پھر آپ ﷺ دوبارہ اپنے خطبہ میں مصروف ہو گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ ضرورت کے وقت خطبہ منقطع کرنے اور منبر سے نیچے اترنے کے جواز میں ایک اصل (دلیل) ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1071
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل الحسين بن واقد» [ترقيم الرساله 1071] [ترقيم الشركة 1063] [ترقيم العلميه 1059]
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزَّاهد، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا محمد بن جعفر بن أبي كثير، حدثنا شَريك بن عبد الله بن أبي نَمِر، عن عطاء بن يسار، عن أبي ذَرٍّ قال: دخلتُ المسجدَ والنبيُّ ﷺ، يخطُب، فجلستُ قريبًا من أُبيِّ بن كعب، فقرأ النبيُّ ﷺ سورة براءة، فقلتُ لأُبيٍّ: متى نزلت هذه السورة؟ الحديث (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1060 - ما أحسب عطاء أدرك أبا ذر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھ گیا، اسی دوران نبی کریم ﷺ نے سورہ براءت (توبہ) کی تلاوت فرمائی، تو میں نے ابی بن کعب سے پوچھا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ (راوی نے پوری) حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1072
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي إن ثبت سماع عطاء بن يسار من أبي ذر، وإلّا فقد قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": ما أحسب عطاءً أدرك أبا ذر، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 14/ 173: أظن فيه انقطاعًا-» [ترقيم الرساله 1072] [ترقيم الشركة 1064] [ترقيم العلميه 1060]
أخبرنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا معاوية بن صالح، عن أبي الزَّاهريَّة قال: كنتُ جالسًا مع عبد الله بن بُسْرٍ يوم الجمعة، فما زال يحدِّثنا حتى خَرَجَ الإمام، فجاء رجلٌ يَتخطَّى رِقابَ الناس ورسولُ الله ﷺ يخطُب، فقال له: "اجلس، فقد آذَيتَ وآنَيتَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1061 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ہمیں مسلسل احادیث سناتے رہے یہاں تک کہ امام خطبہ کے لیے نکلا، اسی دوران ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، یقیناً تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور تم نے دیر کی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجمعة / حدیث: 1073
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو الزاهرية: هو حدير بن كريب الحضرمي الحمصي» [ترقيم الرساله 1073] [ترقيم الشركة 1065] [ترقيم العلميه 1061]