المستدرك على الصحيحين
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
فَضِيلَةُ الْحَسَنَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا باب: سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1073
أخبرنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا معاوية بن صالح، عن أبي الزَّاهريَّة قال: كنتُ جالسًا مع عبد الله بن بُسْرٍ يوم الجمعة، فما زال يحدِّثنا حتى خَرَجَ الإمام، فجاء رجلٌ يَتخطَّى رِقابَ الناس ورسولُ الله ﷺ يخطُب، فقال له: "اجلس، فقد آذَيتَ وآنَيتَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1061 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ہمیں مسلسل احادیث سناتے رہے یہاں تک کہ امام خطبہ کے لیے نکلا، اسی دوران ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، یقیناً تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور تم نے دیر کی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، أبو الزاهرية: هو حدير بن كريب الحضرمي الحمصي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوالزاہریہ سے مراد حدیر بن کریب الحضرمی الحمصی ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17697) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17697/29) نے عبدالرحمن بن مہدی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17674)، وأبو داود (1118)، والنسائي (1718)، وابن حبان (2790) من طرق عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (1118)، نسائی (1718) اور ابن حبان (2790) نے معاویہ بن صالح کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن جابر عند ابن ماجه (1115)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر کی روایت ابن ماجہ (1115) میں ہے مگر سند ضعیف ہے۔
قوله: "آذيت" أي: الناس بتخطيك، "وآنيت" أي: أخرت المجئ وأبطأت.
(توضیح): "آذیت" کا مطلب ہے: تم نے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر انہیں تکلیف دی؛ "وآنيت" کا مطلب ہے: تم نے آنے میں دیر کر دی اور سستی کی۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوالزاہریہ سے مراد حدیر بن کریب الحضرمی الحمصی ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17697) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17697/29) نے عبدالرحمن بن مہدی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17674)، وأبو داود (1118)، والنسائي (1718)، وابن حبان (2790) من طرق عن معاوية بن صالح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (1118)، نسائی (1718) اور ابن حبان (2790) نے معاویہ بن صالح کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن جابر عند ابن ماجه (1115)، وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر کی روایت ابن ماجہ (1115) میں ہے مگر سند ضعیف ہے۔
قوله: "آذيت" أي: الناس بتخطيك، "وآنيت" أي: أخرت المجئ وأبطأت.
(توضیح): "آذیت" کا مطلب ہے: تم نے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر انہیں تکلیف دی؛ "وآنيت" کا مطلب ہے: تم نے آنے میں دیر کر دی اور سستی کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1073 سے ماخوذ ہے۔