حدثنا أبو بكر محمد أحمد بن بن بالَوَيهِ وأبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن ابن مَهدِي، حدثنا سفيان، عن أبي مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لا غِرَارَ في صلاةٍ ولا تسليم" (2). قال أحمد بن حنبل: فيما أرى أنه أراد أن لا تُسلِّمَ ويُسلَّمَ عليك، وتغريرُ الرجلِ بصلاته: أن يُسلِّم وهو فيها شاكٌّ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه معاويةُ بن هشام عن الثوري وشكَّ في رفعه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 972 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه معاويةُ بن هشام عن الثوري وشكَّ في رفعه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 972 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نہ نماز میں دھوکہ (غلطی یا شک) ہے اور نہ سلام میں۔" امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں اس طرح سلام نہ پھیرا جائے کہ نمازی شک میں ہو کہ نماز پوری ہوئی ہے یا نہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن موسى بن عِمْران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن أبي مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة -قال: أُراه رَفَعَه- قال: "لا غِرارَ في تسليمٍ ولا صلاةٍ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ: "سلام اور نماز میں کوئی کمی یا دھوکہ نہیں ہے۔"