المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
لَا غِرَارَ فِي الصَّلَاةِ وَلَا التَّسْلِيمِ باب: نماز اور سلام میں کمی بیشی درست نہیں۔
حدیث نمبر: 987
أخبرني محمد بن موسى بن عِمْران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن أبي مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة -قال: أُراه رَفَعَه- قال: "لا غِرارَ في تسليمٍ ولا صلاةٍ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ: "سلام اور نماز میں کوئی کمی یا دھوکہ نہیں ہے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل معاوية بن هشام. أبو كريب: هو محمد بن العلاء الهمداني.
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے اور معاویہ بن ہشام کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوکریب سے مراد محمد بن علاء الہمدانی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 2/ 261 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (261/2) نے امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے اور معاویہ بن ہشام کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ: ابوکریب سے مراد محمد بن علاء الہمدانی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 2/ 261 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (261/2) نے امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 987 سے ماخوذ ہے۔