کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ نے ایک آیت پر پوری رات قیام فرمایا اور صبح تک اسے دہراتے رہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا قُدَامة بن عبد الله العامري قال: حدثتني جَسْرة بنت دِجَاجة قالت: سمعت أبا ذرٍّ يقول: قام النبيُّ ﷺ بآيةٍ حتى أصبحَ يردِّدها، والآية ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: 118] (1).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 879 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 879 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ہی آیت کی تکرار کرتے ہوئے پوری رات گزار دی یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اور وہ آیت یہ تھی: «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا مِسعَر. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا مِسعْر، عن إبراهيم السَّكسَكي، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني شيئًا يُجزِئني من القرآن، فإني لا أقرأُ، قال: "قل: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إله إلّا الله، واللهُ أكبر، ولا حولَ ولا قوةَ إلّا بالله" قال: فضَمَّ عليها الرجلُ بيده وقال: هذا لربي، فماذا لي؟ قال: "قل: اغفِرْ لي وارحَمْني واهدِني وارزُقْني وعافِني"، قال: فضمَّ عليها بيده الأخرى وقام (2). زاد جعفر بن عون في حديثه قال مِسعَر: كنت عند إبراهيم وهو يحدِّث بهذا الحديث، فاستثبتُّه من غيره (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 880 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 880 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے جو قرآن کے بدلے میرے لیے کافی ہو، کیونکہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بند کیں اور کہا: یہ میرے رب کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي.» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے عافیت نصیب فرما۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔