حدثنا أبو علي محمد بن علي الإسفَرايِيني، حدثنا أبو يوسف يعقوب بن يوسف الواسطي، حدثنا شعيب بن أيوب، حدثنا عبد الله بن نُمَير، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "ما بينَ المشرقِ والمغربِ قِبلةٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ شعيب بن أيوب ثقة، وقد أسنَدَه. ورواه محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر - وهو ثقة (2) - عن نافع عن ابن عمر ﵄ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 741 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ شعيب بن أيوب ثقة، وقد أسنَدَه. ورواه محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر - وهو ثقة (2) - عن نافع عن ابن عمر ﵄ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 741 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان (کا سارا رخ) قبلہ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ما بين المشرقِ والمغربِ قِبلةٌ" (1).
هذا حديث قد أوقَفَه جماعةٌ عن عُبيد الله بن عمر.
هذا حديث قد أوقَفَه جماعةٌ عن عُبيد الله بن عمر.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“
اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر سے موقوفاً (صحابی کا قول) بھی روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عبید اللہ بن عمر سے موقوفاً (صحابی کا قول) بھی روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا داود بن عمرو الضَّبِّي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا محمد بن سالم، عن عطاء، عن جابر قال: كنا نصلِّي مع رسول الله ﷺ في مَسِيرٍ - أو سَيْر - فأظَلَّ لنا غيمٌ فتحيَّرنا، فاختلفنا في القِبْلة، فصلَّى كلُّ واحدٍ منّا على حِدَة، فجعل كلُّ واحد منا يخُطُّ بين يديه لنعلمَ أمكنتَنا، فذكرنا ذلك للنبيِّ ﷺ، فلم يأمرنا بالإعادة، وقال: "قد أجزَأَتْ صلاتُكم" (2).
هذا حديث محتجٌّ برواته كلِّهم غير محمد بن سالم، فإني لا أعرفُه بعدالة ولا جرحٍ (1)! وقد تأمَّلتُ كتابَي الشيخين فلم يُخرِّجا في هذا الباب شيئًا. [4 - ومن كتاب الإمامة وصلاة الجماعة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 743 - هو يعني محمد بن سالم أبو سهل واه_x000D_ وَمِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ، وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
هذا حديث محتجٌّ برواته كلِّهم غير محمد بن سالم، فإني لا أعرفُه بعدالة ولا جرحٍ (1)! وقد تأمَّلتُ كتابَي الشيخين فلم يُخرِّجا في هذا الباب شيئًا. [4 - ومن كتاب الإمامة وصلاة الجماعة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 743 - هو يعني محمد بن سالم أبو سهل واه_x000D_ وَمِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ، وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، بادل چھا جانے کی وجہ سے ہم پر قبلہ مشتبہ ہو گیا اور ہمارا اختلاف ہو گیا، چنانچہ ہم میں سے ہر ایک نے الگ الگ رخ پر نماز پڑھی اور اپنے سامنے نشان لگا دیا تاکہ ہمیں اپنی جگہوں کا علم رہے۔ جب ہم نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا اور فرمایا: ”تمہاری نماز کافی ہو گئی۔“
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن سالم کے جن کی عدالت یا جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں، اور شیخین نے اس باب میں کوئی روایت نقل نہیں کی۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن سالم کے جن کی عدالت یا جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں، اور شیخین نے اس باب میں کوئی روایت نقل نہیں کی۔