المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ أَتَـى الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ باب: جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں وضو کرے پھر مسجد آئے تو وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 755
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو مَعمَر. وأخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا حَرَميُّ بن حفص؛ قالا: حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن أُمية، عن سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة قال: قال أبو القاسم ﷺ: "إذا توضَّأَ أحدُكم في بيته، ثم أَتى المسجدَ، كان في صلاةٍ حتى يَرجِعَ، فلا يَقُلْ هكذا"؛ وشبَّكَ بين أصابعه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد تابعه محمدُ بن عَجْلان عن المقبُري، وهو صحيح على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 744 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں وضو کر کے مسجد کی طرف آتا ہے، تو وہ واپس لوٹنے تک نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا وہ (انگلیوں کے ساتھ) ایسا نہ کرے؛ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھائیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (439) و (447) عن عمران بن موسى القزاز، عن عبد الوارث بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن خزیمہ (439، 447) نے عمران بن موسیٰ القزاز کے واسطے سے، انہوں نے عبد الوارث بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارمي (1446)، وابن خزيمة (446) من طريق محمد بن مسلم الطائفي، عن إسماعيل بن أمية، به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارمی (1446) اور ابن خزیمہ (446) نے محمد بن مسلم الطائفی کے طریق سے، انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے روایت کیا ہے۔ اگلی بحث بھی ملاحظہ فرمائیں۔
والحديث محمول على ما إذا أراد المسجدَ للصلاة، أو كان فيه في انتظار الصلاة، وما عدا هذا فقد ورد في التشبيك بين الأصابع في المسجد أحاديثُ تدلُّ على جوازه كما في حديث أبي هريرة عند البخاري (482)، وانظر "فتح الباري" 2/ 412 - 414 بتحقيقنا.
اہم نکتہ: یہ ممانعت والی حدیث اس صورت پر محمول ہے جب انسان نماز کے ارادے سے مسجد جا رہا ہو یا مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو۔
نوٹ / توضیح: اس کے علاوہ مسجد میں انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے (تشبیک) کے جواز پر احادیث موجود ہیں جیسا کہ بخاری (482) میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت (قصہ ذو الیدین) میں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ہماری تحقیق کردہ 'فتح الباری' 2/ 412-414 ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (439) و (447) عن عمران بن موسى القزاز، عن عبد الوارث بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن خزیمہ (439، 447) نے عمران بن موسیٰ القزاز کے واسطے سے، انہوں نے عبد الوارث بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارمي (1446)، وابن خزيمة (446) من طريق محمد بن مسلم الطائفي، عن إسماعيل بن أمية، به. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارمی (1446) اور ابن خزیمہ (446) نے محمد بن مسلم الطائفی کے طریق سے، انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے روایت کیا ہے۔ اگلی بحث بھی ملاحظہ فرمائیں۔
والحديث محمول على ما إذا أراد المسجدَ للصلاة، أو كان فيه في انتظار الصلاة، وما عدا هذا فقد ورد في التشبيك بين الأصابع في المسجد أحاديثُ تدلُّ على جوازه كما في حديث أبي هريرة عند البخاري (482)، وانظر "فتح الباري" 2/ 412 - 414 بتحقيقنا.
اہم نکتہ: یہ ممانعت والی حدیث اس صورت پر محمول ہے جب انسان نماز کے ارادے سے مسجد جا رہا ہو یا مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو۔
نوٹ / توضیح: اس کے علاوہ مسجد میں انگلیوں میں انگلیاں ڈالنے (تشبیک) کے جواز پر احادیث موجود ہیں جیسا کہ بخاری (482) میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت (قصہ ذو الیدین) میں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ہماری تحقیق کردہ 'فتح الباری' 2/ 412-414 ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 755 سے ماخوذ ہے۔