کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کو ان پر فرض کر دیتا جیسے وضو فرض کیا گیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفضل. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي؛ قالا: حدثنا حماد بن زيد حدثنا عبد الرحمن السَّرّاج، عن سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لولا أن أشُقَّ على أمَّتي، لَفَرضتُ عليهم السِّواكَ مع الوضوء، ولَأخَّرتُ صلاةَ العشاء إلى نصف الليل" (1). ...... (2) عن أبي هريرة في هذا الباب ولم يُخرجا لفظ الفَرْض فيه، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة. وله شاهد بهذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 516 - لم يخرجا لفظ فرضت وهو على شرطهما وليس له علة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 516 - لم يخرجا لفظ فرضت وهو على شرطهما وليس له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں ان پر وضو کے ساتھ مسواک کرنا فرض کر دیتا اور عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ شیخین نے اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات لی ہیں لیکن انہوں نے اس میں لفظِ ”فرض“ کو روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ شیخین نے اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات لی ہیں لیکن انہوں نے اس میں لفظِ ”فرض“ کو روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا خَلِيفة بن خيَّاط، حدثنا إسحاق بن إدريس البصري، حدثنا عمر بن عبد الرحمن الأبَّار، حدثني منصور، عن جعفر بن تمَّام، عن أبيه، عن العباس بن عبد المطلب، أنَّ النبي ﷺ قال: "لولا أن أشُقَّ على أمَّتي، لفَرَضتُ عليهم السواكَ عند كل صلاةٍ كما فرضتُ عليهم الوضوءَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان پر ہر نماز کے وقت مسواک کرنا اسی طرح فرض کر دیتا جیسے ان پر وضو فرض کیا گیا ہے۔“