کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے قدم بہ قدم اپناؤ گے۔
فأخبرَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفضل الأسفاطي قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني كَثِير بن عبد الله بن عمرو بن عوف بن زيد عن أبيه، عن جدِّه قال: كنا قعودًا حولَ رسول الله ﷺ في مسجده فقال: "لتَسلُكُنَّ سَنَنَ مَن قبلَكم، حَذْوَ النعلِ بالنعل، ولَتَاخُذُنَّ مثلَ أخذِهم إنْ شِبرًا فشِبرٌ، وإنْ ذراعًا فذراعٌ، وإنْ باعًا فباعٌ، حتى لو دخلوا جُحْر ضبٍّ لدخلتم فيه. ألا إنَّ بني إسرائيل افتَرَقَت علي موسى علي سبعين (1) فِرقةً، كلُّها ضالَّةٌ إِلَّا فرقةً واحدة: الإسلامُ، وجماعتُهم، وإنها افتَرقَت على عيسى ابن مريم على إحدى وسبعين فرقةً، كلُّها ضالَّة إلّا فرقةً واحدة: الإسلامُ وجماعتُهم، ثم إنكم تكونون (2) على اثنتين وسبعين فِرقةً، كلُّها ضالَّة إلّا فرقةً واحدة: الإسلامُ وجماعتُهم" (3). آخر كتاب العلم [كتاب الطهارة] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاء في ذي الحِجَّة سنة ثلاث وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور اپنے سے پہلوں کے طریقوں پر چلو گے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ بالشت بھر چلے تو تم بھی بالشت بھر چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ (ضب) کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ سنو! بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ستر (70) فرقوں میں بٹ گئے تھے، سوائے ایک کے سب گمراہ تھے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت تھی۔ پھر وہ عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، ایک کے سوا سب گمراہ تھے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت تھی۔ پھر تم بہتر (72) فرقوں میں بٹ جاؤ گے، سوائے ایک کے سب گمراہ ہوں گے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت ہو گی۔“
یہ ”کتاب العلم“ کا اختتام ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة من أجل كثير بن عبد الله ابن عمرو المزني
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة من أجل كثير بن عبد الله ابن عمرو المزني، فإنه متفق على ضعفه» [ترقيم الرساله 450] [ترقيم الشركة 444]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْرِ الخَوْلاني قال: قُرئَ على عبد الله بن وهب: أخبرك مالكُ بن أنس. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نصر العَدْل بمَرُو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعنَبي فيما قَرأَ على مالك: عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن عبد الله الصُّنَابِحي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا توضأ العبدُ فمضمضَ خرجت الخطايا من فيهِ، فإذا استَنشَر خرجت الخطايا من أنفهِ، فإذا غَسَلَ وجهَه خرجت الخطايا من وجهِه، حتى تخرُجَ من أشفارِ عينَيهِ، فإذا غَسَلَ يديهِ خرجت الخطايا من يديهِ، حتى تخرُجَ الخطايا من تحت أظفارِ يديه، فإذا مَسَحَ برأسِه خرجت الخطايا من رأسه حتى تخرُجَ من أُذُنيه، فإذا غَسَلَ رِجليه خرجت الخطايا من رجلَيه، حتى تخرُجَ من تحت أظفار رِجليه، ثم كان مشيُه إلى المسجد وصلاتُه نافلةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه وليس له عِلَّة! وإنما خرَّجا بعضَ هذا المتن من حديث حُمْران عن عثمان، وأبي صالح عن أبي هريرة، غير تَمَامٍ (2)، وعبد الله الصُّنابحي صحابي مشهور، ومالكٌ الإمام الحَكَمُ في حديث المدنيِّين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ الصنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے (صغیرہ) گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کرتا ہے تو ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔ جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو سر سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور اس کی نماز اس کے لیے نفل (اضافی ثواب) بن جاتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ انہوں نے اس متن کا کچھ حصہ عثمان اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے مگر مکمل نہیں۔ عبداللہ الصنابحی ایک مشہور صحابی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 451
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد مرسل قوي، والصواب فيه أنه من رواية أبي عبد الله الصُّنابحي، وهو تابعي لاصحابي، وانظر الكلام في تحرير ذلك في التعليق على "مسند أحمد" 21/ 409» [ترقيم الرساله 451]