حدیث نمبر: 450
فأخبرَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفضل الأسفاطي قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني كَثِير بن عبد الله بن عمرو بن عوف بن زيد عن أبيه، عن جدِّه قال: كنا قعودًا حولَ رسول الله ﷺ في مسجده فقال: "لتَسلُكُنَّ سَنَنَ مَن قبلَكم، حَذْوَ النعلِ بالنعل، ولَتَاخُذُنَّ مثلَ أخذِهم إنْ شِبرًا فشِبرٌ، وإنْ ذراعًا فذراعٌ، وإنْ باعًا فباعٌ، حتى لو دخلوا جُحْر ضبٍّ لدخلتم فيه. ألا إنَّ بني إسرائيل افتَرَقَت علي موسى علي سبعين (1) فِرقةً، كلُّها ضالَّةٌ إِلَّا فرقةً واحدة: الإسلامُ، وجماعتُهم، وإنها افتَرقَت على عيسى ابن مريم على إحدى وسبعين فرقةً، كلُّها ضالَّة إلّا فرقةً واحدة: الإسلامُ وجماعتُهم، ثم إنكم تكونون (2) على اثنتين وسبعين فِرقةً، كلُّها ضالَّة إلّا فرقةً واحدة: الإسلامُ وجماعتُهم" (3). آخر كتاب العلم [كتاب الطهارة] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظُ إملاء في ذي الحِجَّة سنة ثلاث وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور اپنے سے پہلوں کے طریقوں پر چلو گے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ بالشت بھر چلے تو تم بھی بالشت بھر چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ (ضب) کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ سنو! بنی اسرائیل موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ستر (70) فرقوں میں بٹ گئے تھے، سوائے ایک کے سب گمراہ تھے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت تھی۔ پھر وہ عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، ایک کے سوا سب گمراہ تھے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت تھی۔ پھر تم بہتر (72) فرقوں میں بٹ جاؤ گے، سوائے ایک کے سب گمراہ ہوں گے اور وہ ایک اسلام اور ان کی جماعت ہو گی۔“
یہ ”کتاب العلم“ کا اختتام ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة من أجل كثير بن عبد الله ابن عمرو المزني
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة من أجل كثير بن عبد الله ابن عمرو المزني، فإنه متفق على ضعفه» [ترقيم الرساله 450] [ترقيم الشركة 444]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ب): على إحدى وسبعين.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں "ایکترھتر (71) پر" کے الفاظ درج ہیں۔
(2) في (ب): ثم إنهم يكونون.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں "پھر وہ ہو جائیں گے" کے الفاظ ہیں۔
(3) إسناده ضعيف بمرّة من أجل كثير بن عبد الله ابن عمرو المزني، فإنه متفق على ضعفه.
درجۂ حدیث: یہ سند انتہائی ضعیف ہے کیونکہ اس میں کثیر بن عبد اللہ بن عمرو المزنی شامل ہیں جن کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "السنة" (45)، والطبراني في "الكبير" 17/ (3)، والآجريّ في "الشريعة" (33) من طريقين عن كثير بن عبد الله، بهذا الإسناد. وهو عند الآجري مختصر.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "السنہ" (45)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (17/ 3) اور آجری نے "الشریعہ" (33) میں کثیر بن عبد اللہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، آجری کے ہاں یہ روایت مختصراً مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 450 سے ماخوذ ہے۔