کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه من أصل كتابه، أخبرنا عُبيد بن محمد بن حاتم الحافظ - المعروف بالعِجْل - حدثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدثنا عبَّاد ابن عبَّاد، حدثنا يونس - وهو ابن عُبيد - عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ثلاثةٌ يَهلِكون عند الحساب: جوادٌ، وشجاعٌ، وعالمٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرطهما، وهو غريبٌ شاذٌّ إلّا أنه مختصر من الحديث الأول شاهدٌ له.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 365 - على شرطيهما وهو غريب شاذ
هذا حديث صحيح الإسناد على شرطهما، وهو غريبٌ شاذٌّ إلّا أنه مختصر من الحديث الأول شاهدٌ له.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 365 - على شرطيهما وهو غريب شاذ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ حساب کے وقت ہلاک ہوں گے: سخی، بہادر اور عالم (جو ریاکار ہوں)۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ یہ غریب اور شاذ ہے مگر یہ پہلی حدیث کا مختصر حصہ ہے جو اس کے لیے بطورِ شاہد ہے۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ یہ غریب اور شاذ ہے مگر یہ پہلی حدیث کا مختصر حصہ ہے جو اس کے لیے بطورِ شاہد ہے۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع قال: قال أبو هريرة: لولا ما أَخَذَ اللهُ على أهل الكتاب، ما حدَّثتُكم بشيءٍ، ثم تَلَا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ [آل عمران: 187] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعلمُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 366 - لا أعلم له علة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعلمُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 366 - لا أعلم له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب سے لیا ہے تو میں تمہیں (رسول اللہ ﷺ کی) کوئی بات نہ بتاتا“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اسے لوگوں کے لیے ضرور واضح کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے۔“ [سورة آل عمران: 187]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد، عن أبيه قال: كان أبو هريرة يقوم يومَ الجمعة إلى جانب المنبر فيَطرَحُ أعقابَ نعليه في ذراعَيهِ، ثم يَقبِضُ على رُمَّانة المنبر، يقول: قال أبو القاسم ﷺ … ، قال محمدٌ ﷺ … ، قال رسولُ الله ﷺ .... قال الصادقُ المصدوق ﷺ .... ثم يقول في بعض ذلك: "ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب"، فإذا سمع حركةَ باب المقصورة بخروج الإمام جَلَس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، وليس الغَرَضُ في تصحيح حديث: "ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب"، فقد أخرجاه (2)، إنما الغرضُ فيه استحبابُ رواية الحديث على المنبر قبل خروج الإمام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 367 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، وليس الغَرَضُ في تصحيح حديث: "ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب"، فقد أخرجاه (2)، إنما الغرضُ فيه استحبابُ رواية الحديث على المنبر قبل خروج الإمام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 367 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن محمد بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے پہلو میں کھڑے ہوتے، اپنے جوتوں کے تسمے اپنی کلائیوں میں ڈال لیتے اور منبر کے دستی (ہینڈل) کو تھام کر کہتے: ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا... محمد ﷺ نے فرمایا... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا... صادق و مصدوق ﷺ نے فرمایا... پھر اس دوران وہ یہ بھی کہتے: ”عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے“، پھر جب وہ امام کے نکلنے پر مقصورہ کے دروازے کی حرکت محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، اور یہاں مقصد ”ویل للعرب“ والی حدیث کی تصحیح نہیں کیونکہ وہ شیخین کے ہاں موجود ہے، بلکہ مقصد امام کے نکلنے سے پہلے منبر پر حدیث بیان کرنے کے مستحب ہونے کو واضح کرنا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، اور یہاں مقصد ”ویل للعرب“ والی حدیث کی تصحیح نہیں کیونکہ وہ شیخین کے ہاں موجود ہے، بلکہ مقصد امام کے نکلنے سے پہلے منبر پر حدیث بیان کرنے کے مستحب ہونے کو واضح کرنا ہے۔