حدیث نمبر: 371
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع قال: قال أبو هريرة: لولا ما أَخَذَ اللهُ على أهل الكتاب، ما حدَّثتُكم بشيءٍ، ثم تَلَا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ [آل عمران: 187] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعلمُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 366 - لا أعلم له علة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب سے لیا ہے تو میں تمہیں (رسول اللہ ﷺ کی) کوئی بات نہ بتاتا“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ ”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اسے لوگوں کے لیے ضرور واضح کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے۔“ [سورة آل عمران: 187]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ثابت: هو ابن أسلم البُناني، وأبو رافع: هو نُفيع الصائغ» [ترقيم الرساله 371] [ترقيم الشركة 365] [ترقيم العلميه 366]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني، وأبو رافع: هو نُفيع الصائغ.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور "ثابت" سے مراد ثابت بن اسلم البُنانی ہیں اور "ابو رافع" سے مراد نُفیع الصائغ ہیں۔
وأخرجه أبو عوانة في "صحيحه" (8568)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 354 من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو عوانہ نے اپنی "صحیح" (8568) میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (67/ 354) میں حماد بن سلمہ کے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي معناه من وجه آخر عن أبي هريرة برقم (3111)، لكن تلا فيه الآية (159) من سورة البقرة، وانظر تتمة تخريجه هناك.
نوٹ / توضیح: اس کے ہم معنی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ آگے رقم (3111) پر آئے گی، تاہم وہاں انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت (159) تلاوت کی ہے۔ بقیہ تخریج وہیں ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 371 سے ماخوذ ہے۔