کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: علم اس لیے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو۔
فأخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي. وأخبرنا أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، قالا: حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تَعلَّموا العلمَ لتُباهُوا به العلماءَ أو تمارُوا به السُّفهاء، ولا لتَحيَّزوا به المجلسَ، فمن فَعَلَ ذلك فالنارُ النارُ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر و مباہات کرو، یا اس کے ذریعے بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرو، اور نہ ہی اس لیے کہ اس کے ذریعے مجلسوں میں (نمایاں مقام پانے کے لیے) جگہ بناؤ؛ پس جس نے ایسا کیا، تو اس کے لیے آگ ہے، آگ ہے۔“
حدَّثَناه أبو أحمد بن محمد بن الحسين الشَّيباني من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حماد بن زُغْبة التُّجِيبي بمصر، حدثنا ابن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، سمعتُ ابن جُرَيج يحدِّث عن أبي الزُّبير، فذكره بمثله. هذا إسناد حَفِظَه يحيى بن أيوب المصري عن ابن جريج فوَصَله، ويحيى متَّفَق على إخراجه في "الصحيحين"، وقد أرسله عبد الله بن وَهْب، فأنا على أصلي الذي أصَّلتُه في قَبُول الزيادة من الثقة في الأسانيد والمتون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 290 - رواه ابن وهب فأرسله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 290 - رواه ابن وهب فأرسله
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (سابقہ حدیث کے مثل) مروی ہے۔
یہ وہ اسناد ہے جسے یحییٰ بن ایوب مصری نے ابنِ جریج سے متصل روایت کر کے محفوظ رکھا ہے، اور یحییٰ ان راویوں میں سے ہیں جن کی روایات پر شیخین کا اتفاق ہے، اگرچہ عبداللہ بن وہب نے اسے مرسل بیان کیا ہے، مگر میں اپنے اس طے شدہ اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے اسناد اور متون میں ہونے والے اضافے کو قبول کیا جائے گا۔
یہ وہ اسناد ہے جسے یحییٰ بن ایوب مصری نے ابنِ جریج سے متصل روایت کر کے محفوظ رکھا ہے، اور یحییٰ ان راویوں میں سے ہیں جن کی روایات پر شیخین کا اتفاق ہے، اگرچہ عبداللہ بن وہب نے اسے مرسل بیان کیا ہے، مگر میں اپنے اس طے شدہ اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی طرف سے اسناد اور متون میں ہونے والے اضافے کو قبول کیا جائے گا۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب قال: وسمعتُ ابنَ جُرَيج يحدِّث: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تَعلَّموا العلمَ لتُباهُوا به العلماء، ولا لتُمارُوا به السُّفهاء، ولا لتتحدَّثوا به في المجالس، فمَن فَعَلَ ذلك فالنارُ النارُ" (1). وأما حديث كعب بن مالك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم علم اس لیے نہ سیکھو کہ علماء پر اپنی بڑائی جتاؤ، یا بیوقوفوں سے جھگڑا کرو، اور نہ ہی اس لیے کہ مجلسوں میں اس کے ذریعے (اپنی اہمیت جتانے کے لیے) گفتگو کرو؛ پس جس نے ایسا کیا تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے، آگ ہے۔“
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا ابن أبي أُوَيس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن ابتَغَى العلمَ ليُباهيَ به العلماء، أو يُمارِيَ به السُّفهاء، أو يَقبَلَ إفادةَ الناس إليه، فإلى النار" (1). لم يُخرج الشيخان لإسحاق بن يحيى شيئًا، وإنما جعلته شاهدًا لما قدَّمتُ من شرطهما، وإسحاق بن يحيى من أشراف قريش.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 293 - لم يخرجا لإسحاق وإنما خرجته شاهدا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 293 - لم يخرجا لإسحاق وإنما خرجته شاهدا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے علم اس لیے حاصل کیا کہ علماء پر اپنی فوقیت جتائے، یا بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرے، یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائے، تو وہ آگ میں جائے گا۔“
شیخین نے اسحاق بن یحییٰ سے کوئی روایت نہیں لی، لیکن میں نے اسے ان کی شرط کے مطابق بطورِ شاہد (تائیدی روایت) پیش کیا ہے، اور اسحاق بن یحییٰ قریش کے معزز لوگوں میں سے ہیں۔
شیخین نے اسحاق بن یحییٰ سے کوئی روایت نہیں لی، لیکن میں نے اسے ان کی شرط کے مطابق بطورِ شاہد (تائیدی روایت) پیش کیا ہے، اور اسحاق بن یحییٰ قریش کے معزز لوگوں میں سے ہیں۔