کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بیشک رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھا۔
حدثنا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا علي بن هاشم بن البريد، حدثنا عبد الجبار ابن العباس الشِّبامي (2)، عن عَوْن بن أبي جُحَيفة السُّوَائي، عن عبد الرحمن بن عَلْقمة الثقفي، عن عبد الرحمن بن أبي عَقِيل الثقفي قال: قَدِمتُ على رسول الله ﷺ في وفد ثقيفٍ، فعَلِقْنا طريقًا من طرق المدينة حتى أنخنا بالباب، وما في الناس رجلٌ أبغض إلينا من رجل نَلِجُ عليه منه، فدخلنا وسلَّمنا وبايعنا، فما خرجنا من عنده حتى ما في الناس رجلٌ أحبَّ إلينا من رجلٍ خرجنا من عنده، فقلت: يا رسول الله، ألا سألت ربَّك مُلكًا كمُلك سليمان؟ فضحك وقال: "لعلَّ لصاحبكم عند الله أفضل من مُلك سليمان، إنَّ الله لم يبعث نبيًا إلا أعطاه دعوةٌ، فمنهم من اتخذ بها دنيا فأُعطيها، ومنهم من دعا بها على قومه فأُهلِكُوا بها، وإنَّ الله أعطاني دعوةً فاختبأتُها عند ربي شفاعةً لأمَّتي يوم القيامة" (3). وقد احتجَّ مسلم بعليِّ بن هاشم، وعبدُ الرحمن بن أبي عقيل الثقفي صحابيٌّ قد احتَجَّ به أئمتُنا في مسانيدهم، فأمّا عبد الجبار بن العباس فإنه ممَّن يُجمَع حديثُه وتُعَدُّ مسانيدُه في الكوفيين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 226 - ليس بثابت
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بنو ثقیف کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم مدینہ کے ایک راستے پر چلے یہاں تک کہ (آپ کے) دروازے پر اونٹ بٹھا دیے۔ اس وقت لوگوں میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ہمارے نزدیک اس شخص سے زیادہ ناپسندیدہ ہو جس کے پاس ہم داخل ہو رہے تھے (یعنی پہلے ہمیں آپ سے شدید بغض تھا)، لیکن جب ہم داخل ہوئے، سلام کیا اور بیعت کی، تو جب ہم وہاں سے نکلے تو لوگوں میں کوئی بھی ہمیں اس شخص سے زیادہ محبوب نہ تھا جس کے پاس سے ہم نکل کر آ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان علیہ السلام جیسی بادشاہت نہیں مانگی؟ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”شاید تمہارے صاحب (نبی ﷺ) کے لیے اللہ کے پاس سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت سے بھی افضل چیز ہے، اللہ نے ہر نبی کو ایک (ایسی) دعا دی جسے قبول کیا جانا تھا، بعض نے اس سے دنیا مانگی تو انہیں دے دی گئی، بعض نے اپنی قوم کے خلاف دعا کی تو وہ ہلاک کر دیے گئے، جبکہ اللہ نے مجھے بھی ایک دعا دی تو میں نے اسے اپنے رب کے پاس اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن تک چھپا کر (محفوظ کر) رکھا ہے۔“
امام مسلم نے علی بن ہاشم سے احتجاج کیا ہے، اور عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ایک صحابی ہیں جن سے ہمارے ائمہ نے اپنی مسانید میں احتجاج کیا ہے، جہاں تک عبدالجبار بن عباس کا تعلق ہے تو وہ ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیثیں جمع کی جاتی ہیں اور کوفیوں میں ان کی مسانید کا شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 227
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 227] [ترقيم الشركة 226] [ترقيم العلميه 226]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهدي الأصبهاني. وأخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزني، حدثنا علي بن محمد بن عيسى، قالوا: حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع البَهْراني، حدثنا شعيب بن أبي حمزة، عن الزُّهري، حدثنا أنس بن مالك، عن أم حَبيبة، عن النبي ﷺ أنه قال: "أُريتُ ما تلقى أمَّتي بعدي وسَفْكَ بعضهم دماءَ بعضٍ، وسَبَقَ ذلك من الله كما سَبَقَ في الأُمم قبلهم، فسألتُه أن يُولِيَني يوم القيامة شفاعةً فيهم، ففعل" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والعِلَّة عندهما فيه أنَّ أبا اليَمَان حدَّث به مرتين، فقال مرةً: عن شعيب عن الزُّهري عن أنس، وقال مرةً: عن شعيب عن ابن أبي حُسَين عن أنس. وقد قدَّمنا القولَ في مثل هذا: أنه لا يُنكر أن يكون الحديثُ عند إمام من الأئمة عن شيخين، فمرةً يحدِّث به عن هذا ومرةً عن ذاك. وقد حدَّثني أبو الحسن عليُّ بن محمد بن عمر، حدثنا يحيى بن محمد بن صاعدٍ، حدثنا إبراهيم بن هانئ النيسابوري قال: قال لنا أبو اليَمَان: الحديثُ حديثُ الزُّهري، والذي حدَّثتُكم عن ابن أبي حُسين غَلِطتُ فيه بورقةٍ قلبتُها. قال الحاكم: هذا كالأخذِ باليد، فإنّ إبراهيم بن هانئ ثقةٌ مأمونٌ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 227 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جو میری امت کو میرے بعد پیش آئیں گے اور ان کا ایک دوسرے کا خون بہانا دکھایا گیا، اور اللہ کی طرف سے یہ پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ پچھلی امتوں میں ہو چکا، پس میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ قیامت کے دن ان کے حق میں مجھے شفاعت کا حق عطا فرمائے، تو اللہ نے اسے قبول کر لیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اس میں علت یہ تھی کہ ابو الیمان نے اسے دو طرح سے روایت کیا، ایک بار «شعيب عن زهري عن انس» کہا، اور دوسری بار «شعيب عن ابن ابي حسين عن انس» کہا۔ ہم پہلے یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں کہ ایک امام کے پاس ایک حدیث دو اساتذہ سے ہو، وہ کبھی ایک سے بیان کرے کبھی دوسرے سے۔ اور ابو الیمان نے خود وضاحت فرمائی کہ: یہ حدیث دراصل زہری کی ہے، اور جو میں نے ابن ابی حسین سے روایت کی تھی وہ ایک ورق کے الٹ پلٹ ہو جانے کی وجہ سے مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ وضاحت بالکل واضح اور قابلِ قبول ہے کیونکہ ابراہیم بن ہانئ ثقہ اور امانت دار ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 228
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 228] [ترقيم الشركة 227] [ترقيم العلميه 227]