حدیث نمبر: 226
حدَّثناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القَطَّان الرَّقّي بالرَّقّة، حدثنا عبد الرحمن بن حماد أبو بكر الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله بن خالد الواسطي، عن حُميد بن هلال (2)، عن أبي بُردة، عن أبي موسى (3)، عن عوف بن مالك: أنهم كانوا مع النبي ﷺ في بعض مغازيه، قال عوف: فسمعتُ خَلْفي هَزِيزًا كَهَزيزِ الرَّحَى، فإذا أنا بالنبي ﷺ، فقلت: إنَّ النبي ﷺ إذا كان في أرض العدوِّ كان عليه الحرسُ، فقال رسول الله ﷺ: "أتاني آتٍ من ربي يخيِّرني بين أن يُدخِلَ شَطْرَ أُمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة"، فقال معاذ بن جبل: يا رسول الله، قد عرفتَ قِوَائي فاجعَلْني منهم، قال: "أنت منهم"، قال عوف بن مالك: يا رسول الله، قد عرفت أنا تَرَكْنا قومَنا وأموالنا رَغَبًا لله ولرسوله، فاجعَلْنا منهم، قال: "أنت منهم"، فانتهينا إلى القوم وقد ثارُوا، فقال النبي ﷺ: "اقعُدُوا" فقعدوا، كأنه لم يَقُمْ أحد منهم، قال: "أتاني آتٍ من ربي فخيَّرني بين أن يُدخِلَ شطرَ أمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة" فقالوا: يا رسول الله، اجعلنا منهم، فقال: "هي لمن مات لا يُشرِكُ بالله شيئًا" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک غزوے میں تھے، عوف کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پیچھے چکی چلنے جیسی گونج سنی تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ دشمن کی سرزمین میں ہوں تو آپ پر پہرہ ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اس بات میں اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا مجھے شفاعت کا حق ملے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کیا۔“ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میری (ایمان کی) پختگی کو جانتے ہیں، مجھے ان شفاعت پانے والوں میں شامل فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان میں سے ہو۔“ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اپنے گھر بار اور مال و دولت کو چھوڑا ہے، ہمیں بھی ان میں شامل فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی ان میں سے ہو۔“ پھر ہم باقی لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ بیدار ہو گئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ تو وہ سب بیٹھ گئے گویا ان میں سے کوئی اٹھا ہی نہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے آدھی امت کی جنت یا شفاعت کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان میں شامل فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 226
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح ورجاله ثقات
تخریج حدیث «حديث صحيح ورجاله ثقات» [ترقيم الرساله 226] [ترقيم الشركة 225]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هكذا في نسخ "المستدرك"، وكذا هو في "إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (16051) معزوًّا للحاكم لكن بإسقاط "بن خالد" من اسم خالد بن عبد الله، وكل هذا خطأ، والصواب أنه من رواية خالد بن عبد الله الواسطي عن خالد الحذّاء البصري عن حميد بن هلال كما سبق في مصادر التخريج في الحديث السابق.
فنی نکتہ / علّت: "مستدرک" کے نسخوں میں اسی طرح (غلط) مذکور ہے، اور حافظ ابن حجر کی "اتحاف المہرہ" (16051) میں بھی حاکم کے حوالے سے اسی طرح درج ہے لیکن وہاں خالد بن عبداللہ کے نام سے "بن خالد" کا لفظ ساقط ہے؛ یہ سب غلطی ہے، درست یہ ہے کہ یہ خالد بن عبداللہ الواسطی کی روایت ہے جو خالد الحذاء البصری سے اور وہ حمید بن ہلال سے نقل کرتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ حدیث کی تخریجی مآخذ میں بیان ہو چکا ہے۔
(3) هكذا وقع للمصنف، وكذلك هو عند ابن خزيمة وابن حبان، وعند غيرهم: عن أبي بردة ابن أبي موسى عن عوف، أي: أنه من رواية أبي بردة عن عوف، وهو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: مصنف سے یہ (سند) اسی طرح واقع ہوئی ہے، اور ابن خزیمہ و ابن حبان کے ہاں بھی اسی طرح ہے، جبکہ دیگر محدثین کے نزدیک یہ "عن ابی بردہ ابن ابی موسیٰ عن عوف" ہے، یعنی یہ ابوبردہ کی روایت ہے جو وہ عوف سے نقل کرتے ہیں، اور یہی درست ہے۔
(1) حديث صحيح ورجاله ثقات.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وانظر تخريجه في الحديث السابق، فإنَّ في مصادر تخريجه الإسنادين جميعًا.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج کے لیے گزشتہ حدیث دیکھیں، کیونکہ اس کے تخریجی مآخذ میں یہ دونوں سندیں موجود ہیں۔
وانظر أيضًا تخريج الحديث (23977) من "مسند أحمد"، حيث رواه من طريق أبي المليح عن أبي بردة عن عوف بن مالك.
حوالہ / مصدر: مزید براں "مسند احمد" کی حدیث (23977) کی تخریج دیکھیں، جہاں اسے ابو الملیح کے طریق سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے عوف بن مالک سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 226 سے ماخوذ ہے۔