حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو خَليفة الفضل بن محمد بن شعيب القاضي، حدثنا أحمد بن يحيى بن حُميد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن حميد بن هلال، عن نصر بن عاصم، عن عُقْبة بن مالك، عن النبي ﷺ أنه قال: "أمَّا بعدُ، فما بالُ الرجلِ يقتل الرجلَ وهو يقول: أنا مسلمٌ" فقال القاتل: يا رسول الله، إنما قالها متعوِّذًا، فقال رسول الله ﷺ هكذا، وكَرِهَ مَقالَتَه، وحوَّل وجهَه عنه، فقال: "أَبى اللهُ عليَّ مَن قتلَ مسلمًا، أَبى الله عليَّ مَن قتلَ مسلمًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 48 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 48 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد، اس شخص کا کیا حال ہوگا جو کسی ایسے شخص کو قتل کر دے جو کہہ رہا ہو کہ میں مسلمان ہوں؟“ قاتل نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے یہ بات صرف پناہ لینے (جان بچانے) کے لیے کہی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے (اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح فرمایا، اور اس کی بات کو ناپسند کیا اور اپنا چہرہ مبارک اس سے پھیر لیا، پھر فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر اس شخص (کے حق میں رعایت کرنے) سے انکار فرما دیا ہے جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اللہ نے مجھ پر اس سے انکار فرما دیا ہے جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا۔“
حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الأدَمي ببغداد، حدثنا أبو بكر بن أبي العوَّام، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا همَّام. وحدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن محمد بن حيَّان (2) الأنصاري، أخبرنا أبو الوليد وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا همَّام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، قال: حدثني شَيْبة الحضرمي: أنه شهد عُروةَ بن الزُّبير يحدِّث عمرَ بن عبد العزير، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ثلاثٌ أَحلِفُ عليهنَّ: لا يجعلُ اللهُ مَن له سهمٌ في الإسلام كمن لا سهمَ له، وسهامُ الإسلام الصومُ والصلاةُ والصدقةُ، ولا يتولَّى اللهَ عبدٌ (3) فيُولِّيَه غيرَه يوم القيامة، [ولا يحبُّ رجلٌ قومًا إلَّا جاءَ معهم] (1)، والرابعةُ إن حلفتُ عليها رَجَوتُ أن لا آثمَ: ما يستُرُ اللهُ على عبدٍ في الدنيا، إلّا سَتَرَ عليه في الآخرة". فقال عمر بن عبد العزيز: إذا سمعتم مثلَ هذا الحديث يحدِّث به عروةُ عن عائشة، فاحفَظُوه (2). شَيْبة الحضرمي قد خرَّجه البخاري وقال في "التاريخ": ويقال: الخُضْري (3)، سمع عروةَ وعمرَ بن عبد العزيز، وهذا الحديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 49 - ما خرج له يعني شيبة الحضرمي سوى النسائي هذا الحديث وفيه جهالة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 49 - ما خرج له يعني شيبة الحضرمي سوى النسائي هذا الحديث وفيه جهالة
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین باتیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ (سہم) ہے، اس جیسا نہیں کرے گا جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں، اور اسلام کے حصے یہ ہیں: روزہ، نماز اور صدقہ۔ اور اللہ جس بندے کا ولی (سرپرست) بن جاتا ہے، اسے قیامت کے دن کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرے گا۔ اور کوئی شخص جس قوم سے محبت کرتا ہے، اللہ اسے انہی کے ساتھ لائے گا۔ اور چوتھی بات ایسی ہے کہ اگر میں اس پر قسم کھاؤں تو امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا: اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کی پردہ پوشی فرماتا ہے، آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ تب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم ایسی حدیث سنو جسے عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کریں، تو اسے (خوب) یاد کر لیا کرو۔
شیبہ حضرمی کی تخریج امام بخاری نے کی ہے اور ”التاريخ“ میں کہا کہ انہیں خضری بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے عروہ اور عمر بن عبدالعزیز سے سماع کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں (شیخین) نے اسے روایت نہیں کیا۔
شیبہ حضرمی کی تخریج امام بخاری نے کی ہے اور ”التاريخ“ میں کہا کہ انہیں خضری بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے عروہ اور عمر بن عبدالعزیز سے سماع کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں (شیخین) نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يحيى بن مَعِين. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور؛ قالوا: حدثنا هُشَيم، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن فَضَالة اللَّيثي قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلت: إني أريدُ الإسلامَ فعلِّمني شرائعَ من شرائعِ الإسلام، فذكر الصلاةَ وشهرَ رمضان ومواقيتَ الصلاة، فقلت: يا رسول الله، إنك تَذكُر ساعاتٍ أنا فيهن مشغولٌ، ولكن علِّمني جِماعًا من الكلام، قال: "إِنْ شُغِلتَ فلا تُشغَلْ عن العصرَينِ" قلت: وما العصرانِ؟ ولم تكن لغةَ قومي، قال: "الفجرُ والعصرُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ لم يُخرجاها بإسناد آخر، وأكثرها فائدةً ذِكرُ شرائع الإسلام، فإنه في حديث عبد العزيز بن أبي رَوَّاد (1) عن علقمة بن مَرثَدٍ، عن يحيى بن يَعمَرَ، عن ابن عمر (2)، وليس من شَرْط واحدٍ منهما. وقد خُولِفَ هُشيم بن بَشير في هذا الإسناد عن داود بن أبي هند خلافًا لا يضرُّ الحديثَ، بل يزيده تأكيدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 50 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ لم يُخرجاها بإسناد آخر، وأكثرها فائدةً ذِكرُ شرائع الإسلام، فإنه في حديث عبد العزيز بن أبي رَوَّاد (1) عن علقمة بن مَرثَدٍ، عن يحيى بن يَعمَرَ، عن ابن عمر (2)، وليس من شَرْط واحدٍ منهما. وقد خُولِفَ هُشيم بن بَشير في هذا الإسناد عن داود بن أبي هند خلافًا لا يضرُّ الحديثَ، بل يزيده تأكيدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 50 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں اسلام لانا چاہتا ہوں، پس مجھے اسلام کی کچھ شرائع (احکام) سکھا دیجیے، تو آپ ﷺ نے نماز، رمضان کے مہینے اور نماز کے اوقات کا ذکر فرمایا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ان اوقات کا ذکر فرما رہے ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی جامع بات سکھا دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مصروف بھی ہو تو ان دو عصروں (عصرین) سے غافل نہ ہونا۔“ میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ کیونکہ یہ میری قوم کی لغت نہ تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”فجر اور عصر۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایسے الفاظ ہیں جنہیں انہوں نے دوسری اسناد سے بھی روایت نہیں کیا، اور ان میں سب سے زیادہ فائدہ مند بات اسلام کی شرائع کا ذکر ہے، کیونکہ یہ عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت میں علقمہ بن مرثد عن یحییٰ بن یعمر عن ابن عمر کے واسطے سے ہے، جو ان دونوں میں سے کسی کی شرط پر نہیں ہے۔ اور اس سند میں ہشیم بن بشیر کی داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ایسا اختلاف کیا گیا ہے جو حدیث کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایسے الفاظ ہیں جنہیں انہوں نے دوسری اسناد سے بھی روایت نہیں کیا، اور ان میں سب سے زیادہ فائدہ مند بات اسلام کی شرائع کا ذکر ہے، کیونکہ یہ عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت میں علقمہ بن مرثد عن یحییٰ بن یعمر عن ابن عمر کے واسطے سے ہے، جو ان دونوں میں سے کسی کی شرط پر نہیں ہے۔ اور اس سند میں ہشیم بن بشیر کی داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ایسا اختلاف کیا گیا ہے جو حدیث کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔