حدیث نمبر: 47
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب النَّوْقاني، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة (4) المكّي. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر بن إسحاق الفقيه قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى؛ قالا: حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن حُمَيد بن هلال قال: أتاني أبو العاليَةِ أنا وصاحبًا لي فقال: هَلُمَّا فأنتما أَشبُّ وأَوعى للحديث مني، فانطلقَ بنا حتى أَتينا نصرَ بن عاصم اللَّيثي، فقال: حَدِّثْ هذَينِ حديثَك، قال نصرٌ: حدثنا عُقْبةُ (1) بن مالك - وكان من رَهْطه - قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَرِيَّةً فأَغاروا على قوم فشَذَّ رجل من القوم فأتبَعَه رجل من السَّرِيّة معه السيفُ شاهرٌ، فقال الشاذُّ من القوم: إني مسلم، فلم يَنظُرْ فيها، فضربه فقتله، فنُمِيَ الحديثُ إلى رسول الله ﷺ، فقال قولًا شديدًا، فبلغ القاتلَ، فبينما رسول الله ﷺ يَخطُبُ إذ قال القاتل: يا رسول الله، والله ما قالَ الذي قال إلّا تعوُّذًا من القتل، فأَعرَضَ عنه رسولُ الله ﷺ وعمَّن قِبَلَه من الناس، وأخذ في خُطْبته، ثم قال الثانيةَ: يا رسول الله، والله ما قال الذي قال إلَّا تعوُّذًا من القتل، فأعرضَ عنه رسولُ الله ﷺ وعمَّن قِبَلَه من الناس، وأَخذ في خُطْبته، ثم لم يَصبِرْ أن قال الثالثةَ: والله يا رسول الله ما قال الذي قال إلّا تعوُّذًا من القتل، فأقبلَ عليه رسول الله ﷺ تُعرَفُ المَسَاءةُ في وجهه، ثم قال: "إنَّ الله ﷿ أَبَى عليَّ من قتلَ مؤمنًا"؛ قالها ثلاثًا (2).
هذا حديث مخرَّج مثلُه في "المسند الصحيح" لمسلم، فقد احتجَّ بنصر بن عاصم الليثي وسليمان بن المغيرة، فأما عُقْبة بن مالك اللَّيثي فإنه صحابي مُخرَّج حديثه في كتب الأئمة في الوُحْدان، وقد بيَّنتُ شَرْطي في أول الكتاب بأني أُخرج حديث الصحابة عن آخرهم، إذا صحَّ الطريقُ إليهم. وقد تابع يونسُ بنُ عُبيد سليمانَ بن المغيرة على روايته عن حُميدٍ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 47 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ بھیجا، انہوں نے ایک قوم پر چھاپہ مارا، وہاں سے ایک شخص (جان بچانے کے لیے) بھاگا تو لشکر کے ایک آدمی نے ننگی تلوار لے کر اس کا پیچھا کیا، اس شخص نے کہا: میں مسلمان ہوں، لیکن پیچھا کرنے والے نے اس کی پرواہ نہ کی اور اسے ضرب لگا کر قتل کر دیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، قاتل تک یہ بات پہنچی تو جب رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے اور اس کی طرف والے لوگوں سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا، پھر اس نے دوسری بار کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی، آپ ﷺ نے پھر اس سے اور اس کی طرف کے لوگوں سے اعراض فرمایا اور اپنا خطبہ جاری رکھا، پھر اس سے صبر نہ ہو سکا اور تیسری بار کہا: اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! اس نے یہ بات صرف جان بچانے کے لیے کہی تھی، تب رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے مجھ پر اس شخص (کے حق میں رعایت کرنے) سے انکار فرما دیا ہے جس نے کسی مومن کو قتل کیا“؛ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
اس جیسی حدیث امام مسلم کی ”المسند الصحيح“ میں موجود ہے، انہوں نے نصر بن عاصم لیثی اور سلیمان بن مغیرہ سے احتجاج کیا ہے، رہی بات عقبہ بن مالک لیثی کی تو وہ صحابی ہیں اور ان کی حدیث ائمہ کی کتب میں ’وحدان‘ (ایسے صحابہ جن سے صرف ایک راوی ہو) میں مذکور ہے، اور میں کتاب کے آغاز میں اپنی یہ شرط واضح کر چکا ہوں کہ میں تمام صحابہ کی احادیث کی تخریج کروں گا بشرطیکہ ان تک پہنچنے والا راستہ صحیح ہو۔ اور یونس بن عبید نے سلیمان بن مغیرہ کی متابعت کرتے ہوئے حمید سے امام مسلم کی شرط پر روایت کیا ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 47
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إن كانت رواية المصنف محفوظة بذكر نصر بن عاصم» [ترقيم الرساله 47] [ترقيم الشركة 47] [ترقيم العلميه 47]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرَّف في (ب) إلى: ميسرة.
فنی نکتہ / علّت: (4) نسخہ (ب) میں "میسرۃ" تحریف ہے۔
(1) تحرَّف في المطبوع إلى: عتبة.
فنی نکتہ / علّت: (1) مطبوعہ میں "عتبہ" تحریف ہے۔
(2) إسناده صحيح إن كانت رواية المصنف محفوظة بذكر نصر بن عاصم.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "صحیح" ہے بشرطیکہ مصنف کی روایت (نصر بن عاصم کے ذکر کے ساتھ) "محفوظ" ہو۔
فقد أخرجه أحمد 37/ (22490)، والنسائي (8539)، وابن حبان (5972) من طرق عن سليمان بن المغيرة، بهذا الإسناد - ووقع عندهم: بشر بن عاصم، بدل نصر بن عاصم، وهما أخوان، وكلاهما لا بأس به ونصر أوثقُهما.
حوالہ / مصدر: احمد، نسائی اور ابن حبان نے اسے سلیمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے، مگر ان کے ہاں "بشر بن عاصم" ہے (نصر کی جگہ)۔
درجۂ حدیث: یہ دونوں بھائی ہیں اور دونوں "لا بأس بہ" ہیں، مگر نصر زیادہ "ثقہ" ہیں۔
قوله: "أبى عليَّ" أي: استغفرتُ للقاتل فأبى عليَّ مغفرته، وما استجاب لي فيه. قاله السندي في حاشيته على "مسند أحمد".
نوٹ / توضیح: "أبی علی": یعنی میں نے قاتل کے لیے استغفار کیا تو اللہ نے انکار کر دیا اور میری دعا قبول نہیں کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 47 سے ماخوذ ہے۔