حدیث نمبر: 983
حدثني بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أَبي، حدثنا أبو الطاهر، حدثنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن سُمَيٍّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يقول في سجوده: "اللهمَّ اغفِرْ لي ذَنْبي كلَّه، جِلَّه ودِقَّه، أوَّلَه وآخرَه، علانِيَتَه وسِرَّه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! إنما أخرَجا بهذا الإسناد (3): "أقربُ ما يكون العبدُ من ربِّه وهو ساجد".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 969 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے سجدوں میں یہ دعا مانگتے تھے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، جِلَّهُ وَدِقَّهُ، أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» "اے اللہ! میرے تمام گناہ بخش دے، بڑے بھی اور چھوٹے بھی، پہلے بھی اور بعد والے بھی، وہ بھی جو ظاہر ہوئے اور وہ بھی جو پوشیدہ رہے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے اسی سند سے دوسری حدیث روایت کی ہے جس کے الفاظ ہیں: "بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔"

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 983
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري» [ترقيم الرساله 983] [ترقيم الشركة 975] [ترقيم العلميه 969]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري.
درجۂ حدیث: (2) یحییٰ بن ایوب (الغافقی) کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
وأخرجه مسلم (483)، وأبو داود (878) عن أبي الطاهر أحمد بن عمرو بن السَّرْح، بهذا الإسناد. وتابع أبا الطاهر عليه عند مسلم يونسُ بنُ عبد الأعلى وعند أبي داود أحمدُ بنُ صالح. واستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (483) اور ابوداؤد (878) نے ابوالطاہر ابن السرح کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ یونس بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن صالح نے بھی اس کی متابعت کی ہے، لہٰذا حاکم کا استدراک ان کی بھول ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1931) من طريق يونس بن عبد الأعلى، عن ابن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1931) نے یونس بن عبدالاعلیٰ عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) بل أخرجه مسلم وحده برقم (482).
حوالہ / مصدر: (3) بلکہ اسے صرف امام مسلم نے نمبر (482) پر روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 983 سے ماخوذ ہے۔