حدیث نمبر: 982
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُمَيد، عن الحسن، عن رجل، من بني سَلِيطٍ، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ نحوَه (1). قد ذكرتُ هذا الخلافَ فيه على حماد بن سلمة ليَعلَمَ المتأمِّلُ أنَّ الذي صحَّحناه حديثُ داود بن أبي هند ليس فيه خِلافٌ على حماد، وسائرُ الروايات فيه أسانيدُ لحمادٍ عن غير داود. وصلَّى الله على محمد وآله أجمعين.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے حماد بن سلمہ کی اسناد میں پائے جانے والے اس اختلاف کو اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ غور کرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جس حدیث کو ہم نے صحیح قرار دیا ہے وہ داؤد بن ابی ہند کی روایت ہے جس میں حماد پر کوئی اختلاف نہیں ہے، اور باقی تمام روایات میں حماد کی دیگر اساتذہ سے اسناد ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة» [ترقيم الرساله 982] [ترقيم الشركة 974]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة.
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے، مگر حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنے والے راوی کے مبہم (نامعلوم) ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (865)، وابن ماجه (1426) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (865) اور ابن ماجہ (1426) نے حماد بن سلمہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 982 سے ماخوذ ہے۔