المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
أَمَرَنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ باب: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح، تینتیس مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا کریں۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا هشام بن حسَّان، عن محمد بن سِيرِينَ، عن كَثير بن أفلَحَ، عن زيد بن ثابت أنه قال: أُمِرْنا أن نُسبِّحَ في دُبُرِ كل صلاة ثلاثًا وثلاثين، ونَحمَدَ ثلاثًا وثلاثين، ونكبِّر أربعًا وثلاثين. قال: فأُتِيَ رجلٌ من الأنصار في نومه فقيل له: أَمَرَكم رسولُ الله ﷺ أن تسبِّحوا في دُبُر كل صلاة كذا وكذا؟ قال: نعم، قال: فاجعَلُوها خمسًا وعشرين، واجعَلُوا فيها التهليل. فلما أصبَحَ أَتى النبيَّ ﷺ فأخبره، فقال رسول الله ﷺ: "فافعَلُوا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا (2) على حديث سُمَيٍّ عن أبي صالح عن أبي هريرة: "ذَهَبَ أهلُ الدُّثُور بالأُجور"، وليس فيها الرؤيا وهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 928 - صحيح_x000D_
عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ» . وَلَيْسَ فِيهَا الرُّؤْيَا وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ ""سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس (33) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (33) مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہ اکبر کہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہہ رہا ہے: کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اس اس طرح تسبیح پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تو تم ان سب کی تعداد پچیس پچیس (25) کر لو اور ان میں تہلیل (لا الہ الا اللہ) کو بھی شامل کر لو۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آ کر خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "تم اسی طرح کر لیا کرو۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے جس میں خواب اور اس اضافے کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21600)، وابن حبان (2017) من طريق عثمان بن عمر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21600/35) اور ابن حبان (2017) نے عثمان بن عمر کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21659)، والنسائي (1275) و (9911) من طريقين عن هشام بن حسان به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21659) اور نسائی نے ہشام بن حسان کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
(2) هو عند البخاري برقم (843) و (6329)، ومسلم برقم (595) (142). والدُّثُور: جمع دَثْرٍ، وهو المال الكثير.
حوالہ / مصدر: (2) یہ بخاری (843، 6329) اور مسلم (595/142) میں موجود ہے۔ (توضیح): "الدثور" دثر کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے بہت زیادہ مال و دولت۔