المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
الْقُنُوتُ فِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالدُّعَاءُ فِيهِ عَلَى الْكُفَّارِ باب: پانچوں نمازوں میں قنوت پڑھنے اور اس میں کفار کے خلاف دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 920
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبَّار، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثني أبو إسحاق عمرو بن عبد الله السَّبِيعي قال: سمعت البَرَاءَ بن عازِبٍ يقول: كان النبيُّ ﷺ يَسجُدُ على أَلْيَتَيِ الكفِّ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 824 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ہتھیلیوں کے گوشت والے حصوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) ضعيف مرفوعًا، الحسين بن واقد على ثقته له أوهام، وهذا منها، فقد خالفه سفيان الثوري وشعبة - وهو ثقتان جليلان - عند ابن أبي شيبة في "مصنفه" 1/ 261، فروياه عن أبي إسحاق السبيعي موقوفًا على البراء بن عازب قال: السجود على أَلْية الكفَّين، وهو الصواب.
درجۂ حدیث: (3) مرفوعاً یہ روایت ضعیف ہے۔ حسین بن واقد اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
سندی اختلاف: سفیان ثوری اور شعبہ جیسے جلیل القدر ثقہ راویوں نے اسے حضرت براء بن عازب پر موقوف (ان کا اپنا قول) کیا ہے کہ: "سجدہ ہتھیلیوں کے نچلے حصے پر ہوتا ہے"۔ اور یہی (موقوف ہونا) درست ہے۔
وأما حديث حسين بن واقد فقد أخرجه أحمد 30/ (18604)، وابن حبان (1915) من طريقين عنه، به.
حوالہ / مصدر: حسین بن واقد کی حدیث کو احمد (18604/30) اور ابن حبان (1915) نے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (3) مرفوعاً یہ روایت ضعیف ہے۔ حسین بن واقد اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
سندی اختلاف: سفیان ثوری اور شعبہ جیسے جلیل القدر ثقہ راویوں نے اسے حضرت براء بن عازب پر موقوف (ان کا اپنا قول) کیا ہے کہ: "سجدہ ہتھیلیوں کے نچلے حصے پر ہوتا ہے"۔ اور یہی (موقوف ہونا) درست ہے۔
وأما حديث حسين بن واقد فقد أخرجه أحمد 30/ (18604)، وابن حبان (1915) من طريقين عنه، به.
حوالہ / مصدر: حسین بن واقد کی حدیث کو احمد (18604/30) اور ابن حبان (1915) نے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 920 سے ماخوذ ہے۔