المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
رُجُوعُ النَّاسِ لِلشَّفَاعَةِ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ باب: لوگوں کا سفارش (شفاعت) کے لیے انبیاء علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو مالك سعد بن طارق الأشجَعيّ، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذَيفة بن اليَمَان وأبي هريرة قالا: قال رسول الله ﷺ: "يَجمَعُ اللَّهُ الناسَ، فيقومُ المؤمنون حين تُزلَفُ الجنةُ، فيأتون آدمَ ﵇ فيقولون: يا أبانا، استفِتحْ لنا الجنةَ، فيقول: وهل أخرَجَكم من الجنة إلَّا خطيئةُ أبيكم؟ لستُ بصاحب ذاكَ، اعْمِدُوا إلى إبراهيمَ خليلِ ربِّه، فيقول إبراهيم: لستُ بصاحبِ ذاك، إنما كنتُ خليلًا من وراءَ وراءَ، اعمِدُوا إلى النبي موسى الذي كَلَّمه اللهُ تكليمًا، فيأتون موسى فيقول: لستُ بصاحبِ ذاك، اذهبوا إلى كلمةِ الله ورُوحِه عيسى، فيقول عيسى: لستُ بصاحبِ ذاك، فيأتون محمدًا ﷺ، فيقومُ فيُؤذَنُ له، ويُرسَل معه الأمانةُ والرَّحِمُ، فيقفانِ بالصِّراط يمينَه وشِمالَه، فيمرُّ أوّلُكم كمَرِّ البَرْق" قلت: بأبي وأمِّي، أيُّ شيءٍ مرُّ البرق؟ قال: "ألم ترَ إلى البرقِ كيف يمرُّ ثم يَرجِعُ في طَرْفةٍ، ثم كمَرِّ الريح، ومرِّ الطَّيرِ، وشدِّ الرِّجال تَجْري بهم أعمالُهم، ونبيُّكم قائمٌ على الصِّراط: ربِّ سلِّمْ سلِّمْ، قال: حتى تُعجِزَ أعمالُ الناس، حتى يجيءَ الرجلُ فلا يستطيع أن يمرَّ إِلَّا زَحْفًا، قال: وفي حافَتَيِ الصراطِ كلاليبُ معلَّقةٌ مأمورةٌ تأخذ من أُمِرَت به، فمخدوشٌ ناج، ومُكردَسٌ في النار". والذي نفسُ أبي هريرة بيدِه إن قَعْرَ جَهَنَّمَ لِسبعينَ خريفًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8749 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع فرمائے گا، تو جب جنت (اہلِ تقویٰ کے) قریب لائی جائے گی تو مومن کھڑے ہوں گے، وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے باپ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے، وہ فرمائیں گے: تمہیں تمہارے باپ کی خطا ہی نے تو جنت سے نکالا تھا؟ میں اس منصب کا اہل نہیں، تم اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، میں تو بصد عجز دور سے خلیل تھا، تم اللہ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا تھا، وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، تم اللہ کے کلمے اور اس کی روح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، پھر وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے، آپ ﷺ (مقامِ شفاعت پر) کھڑے ہوں گے اور آپ کو اجازت دے دی جائے گی، آپ ﷺ کے ساتھ امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی ہو جائیں گی، پس تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی چمک کی طرح گزرے گا۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کی چمک کی طرح گزرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح پلک جھپکتے گزر کر واپس آ جاتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح، پھر پرندے کے اڑنے کی طرح اور تیز رفتار آدمیوں کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے، اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے یہ دعا کر رہے ہوں گے: «رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے میرے رب! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔“ یہاں تک کہ لوگوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک آدمی آئے گا تو وہ گھسٹنے کے سوا گزرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پل صراط کے دونوں کناروں پر لٹکے ہوئے آنکڑے ہوں گے جنہیں حکم ہوگا کہ وہ ان لوگوں کو اچک لیں جن کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا ہے، پس کوئی زخمی ہو کر نجات پا جائے گا اور کوئی جہنم میں اوندھا گرا دیا جائے گا۔“ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: البتہ اس میں ربعی بن حراش کی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر حذیفہ کے ساتھ ملا کر کرنا ایک "وہم" (غلطی) ہے۔ یہ وہم ابو مالک الاشجعی سے نچلے راوی کو ہوا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ابو مالک کے پاس دو الگ الگ سندیں ہیں۔
فقد أخرجه مسلم (195) من طريق محمد بن فضيل، عن أبي مالك الأشجعي، عن أبي حازم سلمان الأشجعي، عن أبي هريرة. وعن أبي مالك، عن ربعي، عن حذيفة. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے مسلم (195) نے محمد بن فضیل کے طریق سے، انہوں نے ابو مالک الاشجعی سے، انہوں نے (دو سندوں سے) روایت کیا: (1) ابو حازم سلمان الاشجعی سے، انہوں نے ابوہریرہ سے۔ (2) اور ابو مالک نے ربعی سے، انہوں نے حذیفہ سے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور بخاری و مسلم پر) استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔