المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
ذِكْرُ عَرْضِ الْأَنْبِيَاءِ بِأَتْبَاعِهِمْ عَلَى نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: انبیاء علیہم السلام کا اپنے متبعین کے ساتھ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا تذکرہ
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّقٍ، عن أبي ذرّ قال: قال رسول الله ﷺ: "إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تسمعون، أَطَّتِ السماءُ وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها موضعُ أربع أصابعَ إِلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا الله، والله لو تعلمون ما أعلم، لضحكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُش، ولخرجتُم إلى الصُّعُداتِ تَجأَرون إلى الله"، واللهِ لوَدِدتُ أني كنت في شجرةٍ تُعضَدُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8726 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان (بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کسی فرشتے نے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی پیشانی نہ رکھی ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، تم بستروں پر عورتوں سے لذت اندوز نہ ہوتے، اور تم ٹیلوں اور کھلے میدانوں کی طرف نکل کر اللہ کے حضور آہ و زاری کرتے۔“ (یہ سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا ہے کہ میں ایک ایسا درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (عبید اللہ کا نام) تحریف ہو کر "عبد اللہ" (مکبّر) بن گیا ہے۔
(2) حسن لغيره. وهو مكرر ما سلف برقم (8847).
درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ اور یہ وہی روایت ہے جو نمبر (8847) پر گزر چکی ہے (یعنی مکرر ہے)۔