المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
حِكَايَةُ سَجْدَةِ الشَّجْرَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الصَّحَابِيِّ آيَةَ السَّجْدَةِ باب: صحابی کے آیتِ سجدہ پڑھنے پر درخت کے سجدہ کرنے کا واقعہ۔
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن يزيد بن خُنَيس، حدثنا حسن بن محمد بن عُبيد الله بن أبي يزيد قال: قال لي ابن جُرَيج: يا حسنُ، حدَّثني جدُّك عُبَيدُ الله بن أبي يزيد قال: حدثني ابنُ عباس قال: جاء رجلٌ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رأيتُ في هذه الليلة فيما يَرَى النائمُ كأني أُصلِّي خلفَ الشجرة، فرأيتُ كأني قرأتُ سجدةً فسجدتُ، فرأيتُ الشجرةَ كأنها تسجدُ لسجودي، فسمعتُها وهي ساجدةٌ وهي تقول: اللهمَّ اكتُبْ لي عندَك بها أجْرًا، واجعَلْها لي عندك ذُخْرًا، وضَعْ عني بها وِزْرًا، واقبَلْها مني كما قَبِلتَ من عبدِك داود. قال ابن عباس: فرأيتُ رسول الله ﷺ قرأ السجدةَ، ثم سَجَدَ، فسمعتُه وهو ساجد يقول مثلَ ما قال الرجلُ عن كلام الشجرة (1). قال محمد بن يزيد بن خُنَيس: كان الحسن بن محمد بن عبيد الله بن أبي يزيد يصلِّي بنا في المسجد الحرام في شهر رمضان، فكان يقرأُ السجدةَ فيَسجُدُ ويُطِيل السجود، فقيل له في ذلك، فيقول: قال لي ابن جُرَيج: أخبرني جدُّك عبيد الله بن أبي يزيد، بهذا.
هذا حديث صحيح رواتُه مكيُّون لم يُذكَر واحدٌ منهم بجَرْح، وهو من شَرْط الصحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 799 - صحيح_x000D_
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، كَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ يُصَلِّي بِنَا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَكَانَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُ وَيُطِيلُ السُّجُودَ «، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَيَقُولُ قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ بِهَذَا.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رُوَاتُهُ مَكَّيُّونَ لَمْ يُذْكَرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ بِجَرْحٍ وَهُوَ مِنْ شَرْطِ الصَّحِيحِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ""سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو اس درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا اور میں نے اسے سجدے میں یہ کہتے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ.» ”اے اللہ! اس سجدے کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر لکھ دے، اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے، اس کے ذریعے میرا بوجھ اتار دے اور اسے مجھ سے اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اسے اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) سے قبول فرمایا تھا۔“ ابن عباس کہتے ہیں کہ پھر میں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ تلاوت کرتے ہوئے بالکل وہی دعا پڑھتے سنا جو اس شخص نے درخت سے سنی تھی۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی مکی اور ثقہ ہیں، یہ صحیح کی شرط پر ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) حسن بن محمد کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1053)، والترمذي (579) و (3424)، وابن حبان (2768) من طرق عن محمد بن يزيد بن خنيس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث غريب.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1053)، ترمذی (579، 3424) اور ابن حبان (2768) نے محمد بن یزید بن خنیس کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حدیث غریب" کہا ہے۔