حدیث نمبر: 8457
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدَّثه، أنَّ عاصم بن عمر بن قَتادة حدَّثه: أنَّ جابر بن عبد الله عاد المقنَّعَ، ثم قال: لا أخرجُ حتَّى يَحتجِم، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ فيه شفاءً" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8252 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مقنع نامی شخص کی عیادت کی اور فرمایا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ سنگی (حجامہ) نہ لگوا لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیشک اس میں شفاء ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8457
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أحمد بن عيسى» [ترقيم الرساله 8457] [ترقيم الشركة 8354] [ترقيم العلميه 8252]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أحمد بن عيسى - وهو المصري التَّستري - وقد توبع فيما سلف عند المصنّف برقم (7655).
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور احمد بن عیسیٰ (جو مصری تستری ہیں) کی وجہ سے اس کی سند "قوی" ہے۔
اہم نکتہ: مصنف کے ہاں نمبر (7655) پر ان کی متابعت موجود ہے۔
واستدراك الحاكم له على الشيخين ذهولٌ منه، فقد أخرجاه من طريق ابن وهب بهذا الإسناد والمتن كما سلف.
اہم نکتہ: حاکم کا شیخین (بخاری و مسلم) پر اس حدیث کا استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے، کیونکہ انہوں نے اسے ابن وہب کے طریق سے اسی سند اور متن کے ساتھ نکالا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8457 سے ماخوذ ہے۔