حدیث نمبر: 8442
حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن علي بن هانئ العَدْل، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل، حَدَّثَنَا عفَّان بن مسلم، حَدَّثَنَا وُهَيب، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ احتَجَم وأَعطى الحَجَّامَ أَجرَه، واسْتَعَطَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8238 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے (حجام) کو اس کی اجرت دی، اور آپ ﷺ نے ناک میں دوا بھی ڈالی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. وهيب هو ابن خالد بن عجلان البصري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ وہیب سے مراد ابن خالد بن عجلان البصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2337) و (2659) و (2670)، والبخاري (2278) و (5691)، ومسلم (1577) (65) و (2208) (76)، والنسائي (7536)، وابن حبان (5150) من طرق عن وهيب بن خالد، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
متابعات و شواہد: اسے احمد 4/ (2337) و (2659) و (2670)، بخاری (2278) و (5691)، مسلم (1577) (65) و (2208) (76)، نسائی (7536)، اور ابن حبان (5150) نے وہیب بن خالد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: (بخاری و مسلم میں ہونے کے باوجود) حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ وہیب سے مراد ابن خالد بن عجلان البصری ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2337) و (2659) و (2670)، والبخاري (2278) و (5691)، ومسلم (1577) (65) و (2208) (76)، والنسائي (7536)، وابن حبان (5150) من طرق عن وهيب بن خالد، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
متابعات و شواہد: اسے احمد 4/ (2337) و (2659) و (2670)، بخاری (2278) و (5691)، مسلم (1577) (65) و (2208) (76)، نسائی (7536)، اور ابن حبان (5150) نے وہیب بن خالد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: (بخاری و مسلم میں ہونے کے باوجود) حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8442 سے ماخوذ ہے۔