المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
عِلَاجُ ذَاتِ الْجَنْبِ باب: ذات الجنب (پسلی کے درد) کا علاج
حدیث نمبر: 8438
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحُسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا شعبة، عن خالد الحَذَّاء، عن ميمون أبي عبد الله، عن زيد بن أرقَمَ قال: قال رسول الله ﷺ: "تَدَاوَوْا من ذات الجَنْب بالقُسْطِ البَحْريّ والزَّيتِ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8234 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذات الجنب (پھیپھڑوں کے ورم) کا علاج قسط بحری اور زیتون کے تیل سے کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) صحيح لغيره دون ذكر الزيت، وهذا إسناد ضعيف من أجل ميمون أبي عبد الله، وعبدُ الرحمن شيخ المصنّف وإن كان فيه ضعف قد توبع فيما سلف برقم (7631).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے (سوائے تیل کے ذکر کے)، لیکن یہ موجودہ سند میمون ابو عبداللہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ "عبدالرحمٰن" اگرچہ ان میں ضعف ہے لیکن نمبر (7631) پر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وذات الجَنْب: هو التهابٌ في الغشاء المحيط بالرئة.
نوٹ / توضیح: "ذات الجنب" (پسلی کا درد/ نمونیا): یہ پھیپھڑے کے گرد موجود جھلی کی سوزش (Infection/Inflammation) کو کہتے ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے (سوائے تیل کے ذکر کے)، لیکن یہ موجودہ سند میمون ابو عبداللہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ "عبدالرحمٰن" اگرچہ ان میں ضعف ہے لیکن نمبر (7631) پر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وذات الجَنْب: هو التهابٌ في الغشاء المحيط بالرئة.
نوٹ / توضیح: "ذات الجنب" (پسلی کا درد/ نمونیا): یہ پھیپھڑے کے گرد موجود جھلی کی سوزش (Infection/Inflammation) کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8438 سے ماخوذ ہے۔