المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
لَوْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَاءِ باب: اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی تو وہ "سنا مکی" میں ہوتی
حدیث نمبر: 8437
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا يحيى بن جعفر (1) بن الزَّبرِقان، حَدَّثَنَا أبو بكر عُبيد الله (2) بن عبد المجيد الحنفيّ، حَدَّثَنَا عبدُ الحميد بن جعفر عن عُتبة بن عبد الله التّيمي، عن أسماءَ بنت عُميس قالت: سألني رسول الله ﷺ: "بماذا تَسْتمشِينَ؟ " قلت بالشُّبْرُم، قالت: قال: "حارٌّ جارٌّ"، قالت: ثم قلت: استمشيتُ بالسَّنَا، قال: "لو كان في شيء شفاءٌ من الموت، لكان في السَّنَا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8233 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”تم پیٹ صاف کرنے کے لیے کیا استعمال کرتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: «الشُّبْرُم» ”شبرم“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بہت گرم اور مضر ہے“، کہتی ہیں: پھر میں نے عرض کیا کہ میں نے «السَّنَا» ”سنا“ استعمال کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو وہ ”سنا“ میں ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف "جعفر" في نسخنا الخطية إلى: حفص، وقد تكرر عند المصنّف في عدة مواضع على الصواب، ويحيى بن جعفر هذا: هو يحيى بن أبي طالب، جاء مسمًّى عند المصنّف هكذا كثيرًا.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "جعفر" تحریف ہو کر "حفص" بن گیا ہے، حالانکہ مصنف کے ہاں کئی مقامات پر یہ درست نام کے ساتھ آیا ہے۔ اور یہ یحییٰ بن جعفر دراصل "یحییٰ بن ابی طالب" ہیں، مصنف کے ہاں اکثر ان کا نام اسی طرح وضاحت سے آیا ہے۔
(2) في (ز) و (ب): أبو بكر بن عبيد الله، وهو خطأ. وذكر عبيد الله هنا خطأ أيضًا، فإنَّ أبا بكر الحنفي اسمه عبد الكبير، والحديث له، أما عبيد الله فهو أخوه وكنيته أبو علي.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "ابو بکر بن عبیداللہ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ یہاں "عبیداللہ" کا ذکر بھی غلط ہے، کیونکہ ابو بکر الحنفی کا نام دراصل "عبدالکبیر" ہے اور حدیث انہی کی ہے، رہا "عبیداللہ" تو وہ ان (عبدالکبیر) کا بھائی ہے اور اس کی کنیت ابو علی ہے۔
(3) إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (7629).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (7629) پر بیان گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "جعفر" تحریف ہو کر "حفص" بن گیا ہے، حالانکہ مصنف کے ہاں کئی مقامات پر یہ درست نام کے ساتھ آیا ہے۔ اور یہ یحییٰ بن جعفر دراصل "یحییٰ بن ابی طالب" ہیں، مصنف کے ہاں اکثر ان کا نام اسی طرح وضاحت سے آیا ہے۔
(2) في (ز) و (ب): أبو بكر بن عبيد الله، وهو خطأ. وذكر عبيد الله هنا خطأ أيضًا، فإنَّ أبا بكر الحنفي اسمه عبد الكبير، والحديث له، أما عبيد الله فهو أخوه وكنيته أبو علي.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "ابو بکر بن عبیداللہ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ یہاں "عبیداللہ" کا ذکر بھی غلط ہے، کیونکہ ابو بکر الحنفی کا نام دراصل "عبدالکبیر" ہے اور حدیث انہی کی ہے، رہا "عبیداللہ" تو وہ ان (عبدالکبیر) کا بھائی ہے اور اس کی کنیت ابو علی ہے۔
(3) إسناده ضعيف كما سلف بيانه برقم (7629).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (7629) پر بیان گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8437 سے ماخوذ ہے۔