المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ باب: سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے گزرنے نہ دو۔
حدیث نمبر: 841
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا عِمْران بن موسى الجُرْجاني، حدثنا إبراهيم بن المنذِر الحِزَامي، حدثنا سفيان بن عُيَينة. وحدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، حدثني صفوان بن سُلَيم، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن سهل بن أبي حَثْمة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا صلَّى أحدُكم فليصلِّ إلى سُتْرِةٍ وليَدْنُ منها، لا يَقطَعِ الشيطانُ عليه صلاته" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 922 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ سترا (نماز کی آڑ) کی طرف پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ شیطان اس کی نماز (میں خلل ڈال کر اسے) نہ توڑ سکے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابن ابی عمر سے مراد العدنی اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16090)، وأبو داود (695)، والنسائي (826)، وابن حبان (2373) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16090/26)، ابوداؤد (695)، نسائی (826) اور ابن حبان (2373) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابن ابی عمر سے مراد العدنی اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16090)، وأبو داود (695)، والنسائي (826)، وابن حبان (2373) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16090/26)، ابوداؤد (695)، نسائی (826) اور ابن حبان (2373) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔